حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 137 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 137

حیات احمد ۱۳۷ جلد اوّل حصہ اوّل تھے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام انہیں اپنے الہامات اور خوابات قبل از وقت سنا دیا کرتے تھے اور وہ آپ کے ان نشانات کے اس طرح پر گواہ ٹھہر گئے۔بعض باتیں خود ان کی ذات اور متعلقین کے متعلق بھی تھیں اور اس طرح پر وہ نہ صرف دوسرے نشانوں کے گواہ ہیں۔بلکہ خود ان کے اپنے وجود اور خاندان کے بعض افرادان آسمانی تائیدات کے گواہ ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہ ایک مرتبہ بلکہ متعدد مرتبہ ان لوگوں کی شہادت کو اپنی تصانیف میں درج کیا۔اور انہیں کبھی حوصلہ نہیں ہوا کہ وہ اس کی تردید کر سکیں۔بلکہ بعض اوقات آریہ سماج کے ممبروں نے بھی ان پر زور ڈالا مگر وہ ان بچے اور شائع شدہ واقعات کے خلاف بولنے یا کہنے کی جرات نہیں کر سکے۔یہاں تک کہ بعض اوقات آریوں نے بھی انہیں مجبور کیا مگر وہ حوصلہ نہیں کر سکے۔اللہ تعالیٰ نے اس وقت تک جو میں یہ کتاب لکھ رہا ہوں ان کو زندہ رکھا ہے۔اور براہین کے زمانہ سے ان کی شہادت کتابوں رسالوں اور اخبارات میں شائع ہوتی رہی ہے اور انہوں نے اس کی تردید نہیں کی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان لوگوں کی شہادت کے پر کھنے کے لئے یہ ایک محک قرار دیا ہے کہ ملا وامل یا شرمپت کو ان کے بیٹوں کی قسم دی جاوے۔یعنی بیٹوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر بطور قسم یہ کہے کہ یہ پیشگوئی میرے نزدیک (جو پیشگوئی ان کی شہادت سے کی گئی ہو ) جھوٹ ہے۔اور پوری نہیں ہوئی اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تمام واقعہ حق ہے۔وَلَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبين اب میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ملا وامل اور شرمیت کے متعلق ذاتی نشانات کا ذکر کر دوں۔لالہ ملا وامل تپ دق سے بیچ گیا لالہ ملا وامل جب ہیں یا بائیس برس کی عمر کے تھے تپ دق میں مبتلا ہو گئے۔حضرت اقدس علیہ السلام کہتے ہیں کہ :۔رفتہ رفتہ اُس کی مرض انتہا کو پہنچ گئی اور آثار مایوسی کے ظاہر ہو گئے۔ایک دن وہ میرے پاس آ کر اور اپنی زندگی سے نامید ہوکر بہت بیقراری سے رویا۔میرا دل