حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 133 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 133

حیات احمد ۱۳۳ جلد اوّل حصہ اول تب میں نے ایک ہند دکھتری ملاوامل نام کو جو سا کن قادیان ہے اور ابھی تک زندہ ہے وہ الہام لکھ کر دیا۔اور سارا قصہ اُس کو سنایا اور اُس کو امر تسر بھیجا کہ تا حکیم مولوی محمد شریف کلانوری کی معرفت اس کو کسی نگینہ میں کھدوا کر اور مہر بنوا کر لے آوے۔اور میں نے اُس ہندو کو اس کام کے لئے محض اس غرض سے اختیار کیا کہ تا وہ اس عظیم الشان پیشگوئی کا گواہ ہو جائے اور تا مولوی محمد شریف بھی گواہ ہو جاوے۔چنانچہ مولوی صاحب موصوف کے ذریعہ سے وہ انگشتری بصرف مبلغ پانچ روپیہ طیار ہو کر میرے پاس پہنچ گئی۔جواب تک میرے پاس موجود ہے جس کا نشان یہ ہے۔یہ اُس زمانہ میں الہام ہوا تھا جبکہ ہماری معاش اور آرام کا تمام مدار ہمارے والد صاحب کی محض ایک مختصر آمدنی پر منحصر تھا۔اور بیرونی لوگوں میں سے ایک شخص بھی مجھے نہیں جانتا تھا اور میں ایک گمنام انسان تھا جو قادیان جیسے ویران گاؤں میں زاویہ گمنامی میں پڑا ہوا تھا۔پھر بعد اس کے خدا نے اپنی پیشگوئی کے موافق ایک دنیا کو میری طرف رجوع دے دیا اور ایسی متواتر فتوحات سے مالی مدد کی کہ جس کا شکر یہ بیان کرنے کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں۔مجھے اپنی حالت پر خیال کر کے اس قدر بھی امید نہ تھی کہ دس روپیہ ماہوار بھی آئیں گے۔مگر خدا تعالیٰ جو غریب کو خاک میں سے اٹھاتا اور متکبروں کو خاک میں ملاتا ہے اُس نے ایسی میری دستگیری کی کہ میں یقیناً کہہ سکتا ہوں کہ اب تک تین لاکھ کے قریب روپیہ آچکا ہے اور شاید اس سے زیادہ ہو۔اور اس آمدنی کو اس سے خیال کر لینا چاہئے کہ سالہا سال سے صرف لنگر خانہ کا ڈیڑھ ہزار روپیہ ماہوار تک خرچ ہو جاتا ہے۔یعنی اوسط کے حساب سے اور دوسری شاخیں مصارف کی یعنی مدرسہ وغیرہ اور کتابوں کی چھپوائی اس سے الگ ہے۔پس دیکھنا چاہئے کہ یہ پیشگوئی یعنی اليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَہ کس صفائی اور قوت اور شان سے پوری ہوئی۔کیا یہ کسی مفتری کا کام ہے یا شیطانی وساوس ہیں۔ہرگز نہیں۔بلکہ اُس خدا