حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 134
حیات احمد ۱۳۴ جلد اول حصہ اوّل کا کام ہے جس کے ہاتھ میں عزت اور ذلت اور ادبار اور اقبال ہے۔اگر اس میرے بیان کا اعتبار نہ ہو تو میں برس کی ڈاک کے سرکاری رجسٹروں کو دیکھوتا معلوم ہو کہ کس قدر آمدنی کا دروازہ اس تمام مدت میں کھولا گیا ہے حالانکہ یہ آمدنی صرف ڈاک کے ذریعہ تک محدود نہیں رہی بلکہ ہزار ہا روپیہ کی آمدنی اس طرح بھی ہوتی ہے کہ لوگ خود قادیان میں آکر دیتے ہیں۔اور نیز ایسی آمدنی جو لفافوں میں نوٹ بھیجے جاتے ہیں۔“ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۱۹ تا ۲۲۱) اللہ تعالیٰ کی طرف سے کامل تسلی اور اطمینان پالینے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سب کوفت اور غم جاتا رہا۔فرماتے ہیں کہ :۔” یہ ایک پہلا دن تھا جو میں نے بذریعہ خدا کے الہام کے ایسا رحمت کا نشان 66 دیکھا۔جس کی نسبت میں خیال نہیں کر سکتا کہ میری زندگی میں کبھی منقطع ہو۔“ (کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۹۵ حاشیه ) بعد کے واقعات نے اور جیسا کہ میں او پر لکھ آیا ہوں۔اس کو روز روشن کی طرح ثابت کر دیا۔کہ نہ صرف زندگی بھر بلکہ اب آپ کے بعد بھی خدا تعالیٰ کے فضل کی تائیدات اسی طرح اس سلسلہ کے شامل حال ہیں۔رانی اور درشنی آدمی اس الہام کی تائید میں ایک اور مبشر رویا بھی حضرت والد صاحب قبلہ کی وفات کے دوسرے یا تیسرے دن آپ نے دیکھی۔چنانچہ فرماتے ہیں کہ :۔اس عاجز کو بھی اس بات کا ذاتی تجربہ ہے کہ بعض اوقات خواب یا کشف میں روحانی امور جسمانی شکل پر متشکل ہو کر مثل انسان نظر آ جاتے ہیں مجھے یاد ہے کہ جب میرے والد صاحب غَفَرَ اللهُ لَهُ جو ایک معزز رئیس اور اپنی نواح میں عزت کے ساتھ مشہور تھے انتقال کر گئے تو اُن کے فوت ہونے کے بعد دوسرے یا تیسرے روز ایک عورت نہایت خوبصورت خواب میں میں نے دیکھی جس کا حلیہ ابھی تک میری