حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 127
حیات احمد ۱۲۷ جلد اوّل حصہ اوّل حضرت اقدس نے ظاہر نہیں فرمایا اور نہ اس کا موقعہ بھی ہوا۔مگر واقعات بتاتے ہیں کہ یہ کتاب آپ کے پاس اس غرض کے لئے تھی کہ اس کی وجہ سے دعا کے لئے تحریک ہو اور اس کی تردید کی جاوے۔بہر حال اس سفر میں یہ کتاب حضرت مسیح موعود کے پاس تھی موسم سخت سردی کا تھا۔رات کے آخری حصہ میں آپ نے اس سے پانی گرم کرنے کا کام لیا۔فرماتے تھے کہ اس وقت میزان الحق نے خوب کام دیا۔حضرت مولانا عبد اللہ غزنوی کے مکاشفات والہامات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی تائید میں ناظرین او پر پڑھ چکے ہیں کہ جب آپ بمقام خیر دی مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی کے پاس گئے۔اور دعا کے لئے کہا تو قادیان واپس چلے آنے پر عبداللہ صاحب نے بذریعہ خط آپ کو اس الہام سے اطلاع دی۔جو حضرت مسیح موعود کے متعلق ہوا تھا اسی سلسلہ خط وکتابت میں انہوں نے بعض اور الہام بھی آپ کی نسبت لکھے۔حضرت مسیح موعود نے مولوی عبدالرحمن صاحب لکھو کے والے کو خطاب کر کے ایک موقعہ پر لکھا کہ : - مولوی عبد الرحمن صاحب براہ مہربانی فرماویں کہ جبکہ سلف صالح کے برخلاف قرآن شریف کے معنے کرنے سے انسان ملحد ہو جاتا ہے اور اسی وجہ سے یہ عاجز بھی ان کی نظر میں ملحد ہے کہ خدائے تعالیٰ کے الہام سے بعض آیات کے معانی مخفی ظاہر کرتا ہے تو پھر مولوی عبداللہ صاحب مرحوم غزنونی کی نسبت جو اُن کے مرشد ہیں کیا فتویٰ ہے؟ جن کو ایسے ایسے الہام بھی ہو گئے کہ جو آیتیں خاص پیغمبروں کے حق میں تھیں وہ امتی لوگوں کے حق میں قرار دے دیں۔چنانچہ دو دفعہ بعض وہ آیتیں جو صحابہ کبار کے حق میں قرآن کریم میں تھیں اس عاجز کی طرف اپنے خط میں لکھ کر بھیج دیں کہ آپ کی نسبت مجھے یہ الہام ہوا ہے۔انہیں میں سے یہ آیات بھی ہیں۔(۱) قَدْ اَفْلَحَ مَنُ زكهَا الشَّمس:١٠) (۲) أَنْتَ مَوْلنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ (البقرة : ۲۸۷) اور یہ عاجز کہ مولوی عبد اللہ غزنوی مرحوم سے محبت اور حسن ظن رکھتا ہے تو درحقیقت