حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 126
حیات احمد عبداللہ غزنوی سے دعا اور اس کا جواب حضرت اقدس نے ان سے اپنی ملاقات کا واقعہ بیان کیا ہے کہ:- جلد اوّل حصہ اوّل ” جب وہ زندہ تھے ایک دفعہ مقام خیر دی میں اور دوسری دفعہ مقام امرتسر میں ان سے میری ملاقات ہوئی۔میں نے انہیں کہا۔کہ آپ ملہم ہیں ہمارا ایک مدعا ہے۔اس کے لئے آپ دعا کرو۔مگر میں آپ کو نہیں بتلاؤں گا کہ کیا مدعا ہے۔انہوں نے کہا۔کہ در پوشیده داشتن برکت است و من انشاء الله دعا خواہم کرد۔والہام امر اختیاری نیست۔اور میرا مدعا یہ تھا کہ دین محمدی علیہ الصلوۃ والسلام روز بروز تنزل میں ہے۔خدا اس کا مددگار ہو۔بعد اس کے میں قادیان میں چلا آیا۔تھوڑے دنوں کے بعد بذریعہ ڈاک ان کا خط مجھے ملا۔جس میں لکھا تھا۔کہ این عاجز برائے شما دعا کرده بود القاشد۔وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِين - فقیر را کم اتفاق مے افتد کہ بدیں جلدی القا شود۔این از اخلاص شما می بینم (حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۵۱) حضرت مسیح موعود کی خواہش کا اندازہ اس دعا سے ہو سکتا ہے کہ آپ کی سب سے بڑی خواہش کیا تھی؟ آپ مولوی عبداللہ غزنوی صاحب کے پاس اپنی ذاتی غرض کے لئے نہیں گئے تھے اور نہ کچھ پیش کیا۔جو غرض مخفی آپ کے دل میں تھی وہ محض اسلام کی ترقی کے لئے تھی۔اور اس کی تائید اور نصرت کی دعا تھی۔میزان الحق نے خوب کام دیا اس موقع پر جب حضرت مسیح موعود مولوی عبد اللہ غزنوی مرحوم سے ملاقات کے لئے گئے تو آپ کے پاس پادری فنڈر کی مشہور کتاب میزان الحق تھی۔اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے دل میں اسلام کا کس قدر در داور ان دشمنانِ اسلام کے حملوں کے جواب کے لئے کس قدر جوش تھا۔اگر چہ ترجمہ: اس عاجز نے آپ کے لئے دعا کی تو یہ القاء ہوا کہ وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِيْن اس عاجز کو ایسا اتفاق کم ہوتا ہے کہ اتنی جلدی القا ہوا ہو میرا خیال ہے کہ ایسا آپ کے اخلاص کی وجہ سے ہوا ہے۔