حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 125
حیات احمد ۱۲۵ جلد اوّل حصہ اوّل عبداللہ غزنوی سے ملاقات ان کے زمانہ میں حضرت مولوی عبداللہ غزنوی صاحب ایک بزرگ تھے جو متبع سنت اور اہلِ دل بزرگ تھے۔حضرت مسیح موعود نے ان کے متعلق لکھا تھا۔ایک بزرگ غایت درجہ کے صالح جو مردانِ خدا میں سے تھے اور مکالمہ الہیہ کے شرف سے بھی مشرف تھے۔اور بمرتبہ کمال اتباع سنت کرنے والے اور تقویٰ اور طہارت کے جمیع مراتب اور مدارج کو ملحوظ اور مرعی رکھنے والے تھے۔اور ان صادقوں اور راستبازوں میں سے تھے جن کو خدا تعالیٰ نے اپنی طرف کھینچا ہوا ہوتا ہے۔اور پرلے درجہ کے معمور الاوقات اور یاد الہی میں محو اور غریق اور اسی راہ میں کھوئے گئے تھے جن کا نام عبد اللہ غزنوی تھا۔“ (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۴۳ حاشیه) اس بزرگ کی خدمت میں حضرت مسیح موعود کبھی کبھی جاتے تھے۔یہ بزرگ علاقہ غزنی سے ظالم طبع مولویوں کی ریشہ دوانیوں اور فتاویٰ تکفیر کے باعث نکالے گئے۔اور جس طرح پر دوسرے راستبازوں کو ناقدر شناس لوگوں نے ہمیشہ دکھ دیا ہے۔اس بزرگ کو بھی اُن نا اہلوں نے اپنے خیال میں ہر طرح ذلیل کر کے نکال دیا۔مگر جو خدا تعالیٰ کے حضور معزز و مکرم ہو دنیا کی یہ ذلتیں اس کے سامنے بیچ اور نا قابل التفات ہیں۔حضرت مسیح موعود ایک مرتبہ انہیں امرتسر ملے اور ایک مرتبہ خیر دی جو نواح امرتسر میں ایک گاؤں تھا۔وہاں امرتسر میں جب وہ آئے تو چونکہ وہابی مشہور تھے۔اس لئے حکام کو ان کی نسبت بدظن کیا گیا اور اس پر وہ خیر دی میں جا رہے۔غرض اس بزرگ کی خدمت میں حضرت صاحب جاتے اور جب جاتے تو آپ کا معمول تھا کہ کبھی خالی ہاتھ نہ جاتے تھے کوئی تحفہ لے جاتے۔اور عموماًوہ اعلیٰ درجہ کا گوشت کا ٹکڑا ہوتا۔