حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 124
حیات احمد ۱۲۴ جلد اوّل حصہ اول روحانی سختی کشی کا حصہ ہنوز باقی تھا۔سو وہ حصہ ان دنوں میں مجھے اپنی قوم کے مولویوں کی بدزبانی اور بدگوئی اور تکفیر اور تو ہین اور ایسا ہی دوسرے جہلاء کے دشنام اور دل آزاری سے مل گیا اور جس قدر یہ حصہ بھی مجھے ملا۔میری رائے ہے کہ تیرہ سو برس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کم کسی کو ملا ہو گا۔میرے لئے تکفیر کے فتوے طیار ہو کر مجھے تمام مشرکوں اور عیسائیوں اور دہریوں سے بدتر ٹھہرایا گیا اور قوم کے سفہاء نے اپنے اخباروں اور رسالوں کے ذریعہ سے مجھے وہ گالیاں دیں کہ اب تک مجھے کسی دوسرے کے سوانح میں ان کی نظیر نہیں ملی۔سو میں اللہ تعالیٰ کا شکر کرتا ہوں کہ دونوں قسم کی سختی سے میرا امتحان کیا گیا۔(کتاب البریه، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۹۶ تا ۲۰۱ حاشیه ) حضرت مسیح موعود نے یہ مجاہدات جیسا کہ انہوں نے آپ تحریر فرمایا ہے۔خاندانِ نبوت کی سنت پر کئے۔اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ روحانیات میں آپ اس وقت بھی خاندانِ نبوت میں داخل تھے اور ان فیوضات اور برکات سے حصہ لینے والے تھے جو انبیاء علیہم السلام سے مخصوص ہیں۔یہ ایسے زمانہ کی بات ہے کہ جب آپ نہ مامور ہوئے تھے اور نہ کوئی دعوئی آپ کا پبلک میں آیا تھا اور ابھی آپ کسی حد تک زمینداری معاملات کی نگرانی اور مقدمات کی پیروی میں بھی حصہ لیتے تھے۔صحبت صادقین کا شوق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طبیعت ایک طرف تنہائی پسند واقعہ ہوئی تھی۔دوسری طرف آپ کو ان لوگوں کی صحبت میں جانے اور رہنے کا شوق ضرور تھا جو صادق ہوں مگر اس معاملہ میں آپ کی فراست مومنانہ نے کبھی آپ کو ایسے لوگوں کے پاس جانے کا موقع نہیں دیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع اور پیروی سنت سے الگ راہیں نکالا کرتے ہیں اور جن کی اُس زمانہ میں کثرت تھی بہت سے بدعتی فقیر اور سجادہ نشین خلاف سنت طریقے نکال کر مخلوق کو گمراہ کر رہے تھے۔یہاں تک کہ ان لوگوں نے اسلامی ارکان اور اعمال کی بجائے نئے اعمال پیدا کر لئے اور گونہ نئی شریعت بنالی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایسے لوگوں سے ہمیشہ نفرت تھی۔