حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 123 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 123

حیات احمد ۱۲۳ جلد اوّل حصہ اول غرض اس مدت تک روزہ رکھنے سے جو میرے پر عجائبات ظاہر ہوئے وہ انواع اقسام کے مکاشفات تھے۔ایک اور فائدہ مجھے یہ حاصل ہوا کہ میں نے ان مجاہدات کے بعد اپنے نفس کو ایسا پایا کہ میں وقت ضرورت فاقہ کشی پر زیادہ سے زیادہ صبر کر سکتا ہوں۔میں نے کئی دفعہ خیال کیا کہ اگر ایک موٹا آدمی جو علاوہ فربہی کے پہلوان بھی ہو۔میرے ساتھ فاقہ کشی کے لئے مجبور کیا جائے تو قبل اس کے کہ مجھے کھانے کے لئے کچھ اضطرار ہو وہ فوت ہو جائے۔اس سے مجھے یہ بھی ثبوت ملا کہ انسان کس حد تک فاقہ کشی میں ترقی کر سکتا ہے۔اور جب تک کسی کا جسم ایسا سختی کش نہ ہو جائے میرا یقین ہے کہ ایسا تنتقم پسند روحانی منازل کے لائق نہیں ہوسکتا۔لیکن میں ہر ایک کو یہ صلاح نہیں دیتا کہ ایسا کرے اور نہ میں نے اپنی مرضی سے ایسا کیا۔میں نے کئی جاہل درویش ایسے بھی دیکھے ہیں جنہوں نے شدید ریاضتیں اختیار کیں اور آخر یبوست دماغ سے وہ مجنون ہو گئے اور بقیہ عمر اُن کی دیوانہ پن میں گزری یا دوسرے امراض سیل اور دق وغیرہ میں مبتلا ہو گئے۔انسانوں کے دماغی قومی ایک طرز کے نہیں ہیں۔پس ایسے اشخاص جن کے فطرتاً قولی ضعیف ہیں ان کو کسی قسم کا جسمانی مجاہدہ موافق نہیں پڑ سکتا۔اور جلد تر کسی خطرناک بیماری میں پڑ جاتے ہیں۔سو بہتر ہے کہ انسان اپنے نفس کی تجویز سے اپنے تئیں مجاہدہ شدیدہ میں نہ ڈالے۔اور دین العجائز اختیار رکھے۔ہاں اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی الہام ہو اور شریعتِ غَرَّاء اسلام سے منافی نہ ہو۔تو اُس کو بجالانا ضروری ہے۔لیکن آج کل کے اکثر نادان فقیر جو مجاہدات سکھلاتے ہیں ان کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔پس ان سے پر ہیز کرنا چاہئے۔یادر ہے کہ میں نے کشف صریح کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ سے اصلاح پا کر جسمانی سختی کشی کا حصہ آٹھ یا نو ماہ تک لیا اور بھوک اور پیاس کا مزہ چکھا۔اور پھر اس طریق کو على الدوام بجالانا چھوڑ دیا اور کبھی کبھی اس کو اختیار بھی کیا۔یہ تو سب کچھ ہوا لیکن