حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 121
حیات احمد ۱۲۱ جلد اوّل حصہ اول حضرت مسیح موعود کے مجاہدات اور اثنائے مجاہدات میں تجلیات میں نے کبھی ریاضات شاقہ بھی نہیں کیں اور نہ زمانہ حال کے بعض صوفیوں کی طرح مجاہدات شدیدہ میں اپنے نفس کو ڈالا۔اور نہ گوشتہ گزینی کے التزام سے کوئی چلہ کشی کی۔اور نہ خلاف سنت کوئی ایسا عمل رہبانیت کیا جس پر خدا تعالیٰ کے کلام کو اعتراض ہو، بلکہ میں ہمیشہ ایسے فقیروں اور بدعت شعار لوگوں سے بیزار رہا جو انواع اقسام کی بدعات میں مبتلا ہیں۔ہاں حضرت والد صاحب کے زمانہ میں ہی جب کہ اُن کا زمانہ وفات بہت نزدیک تھا۔ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ ایک بزرگ معمر پاک صورت مجھ کو خواب میں دکھائی دیا اور اُس نے یہ ذکر کر کے کہ کسی قدر روزے انوار سماوی کی پیشوائی کے لئے رکھنا سنت خاندانِ نبوت ہے۔اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ میں اس سنت اہل بیت رسالت کو بجالاؤں۔روزہ کا مجاہدہ سوئیں نے کچھ مدت تک التزام صوم کو مناسب سمجھا مگر ساتھ ہی یہ خیال آیا کہ اس امر کو مخفی طور پر بجالانا بہتر ہے۔پس میں نے یہ طریق اختیار کیا کہ گھر سے مردانہ نشست گاہ میں اپنا کھانا منگواتا اور پھر وہ کھانا پوشیدہ طور پر بعض یتیم بچوں کو جن کو میں نے پہلے سے تجویز کر کے وقت پر حاضری کے لئے تاکید کر دی تھی دے دیتا تھا اور اس طرح تمام دن روزہ میں گزارتا اور بجز خدا تعالیٰ کے ان روزوں کی کسی کو خبر نہ تھی۔پھر دو تین ہفتہ کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ ایسے روزوں سے جو ایک وقت میں پیٹ بھر کر روٹی کھالیتا ہوں۔مجھے کچھ بھی تکلیف نہیں۔بہتر ہے کہ کسی قد رکھانے کو کم کروں۔سو میں اس روز سے کھانے کو کم کرتا گیا یہاں تک کہ میں تمام رات دن میں صرف ایک