حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 120
حیات احمد ۱۲۰ جلد اوّل حصہ اوّل آنکه او را بخلق کار نماند باز کارش بروزگار نماند وہ خدا جو مخلوق کو پیدا کرتا ہے اور پیدا کرنے کے بعد اس کے لئے روزی فراہم کرتا ہے دائم الحبس شود در ان چاہے که نیاید از و برون گا ہے انسان ہمیشہ اس کنویں میں ڈوبا رہتا ہے اور وہ کبھی بھی اس سے باہر نہیں نکلتا سیم و زر کن حقیر در نظرم فقر کن مطلب بزرگترم میری نظر میں چاندی اور سونے کو حقیر کر دے اور فقر کو میرا مقصد اوّل بنا دے آنچناں بخش عقل حق جویم که براهت بچشم و سر پویم حق جوئی کی ایسی عقل مجھے عطا فرما کہ میں تیری راہ پر بسر و چشم متلاشی ہو جاؤں عشقت بریز جانم در مجذوب بگردانم اپنے عشق کا جوش میری جان میں ڈال اور مجھے اپنے عشق میں مست اور مجذوب بنادے ہمہ مدح و ثنائے تو خواہم ہرچہ خواہم برائے تو خواہم میں ہمیشہ تیری ہی مدح و ثناء کا خواہش مند ہوں اور میری جو بھی خواہش ہے تو ہی ہے اے خداوند من گنا ہم بخش سوئے درگاه خویش را هم بخش اے میرے خدا میرے گناہ بخش اور اپنی بارگاہ تک میری رسائی کر تا مرا دل به تو حمد تو پیوست ہمہ کاروبا رہا بگسست تا کہ میرا دل اس حد تک تیری ذات اور حمد سے وابستہ ہو جائے کہ تمام دیگر کام فراموش ہو جائیں از