حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 119
حیات احمد ۱۱۹ جلد اوّل حصہ اول دل من رشک در دناکاں کن سر من خاک کوئے پاکاں کن میرے دل کو دردمند لوگوں کے لئے قابل رشک بنادے اور میرے سر کو پاک لوگوں کی خاک راہ بنا دے دیده من بصدق روشن کن ہمہ کارم بوجه احسن کن صدق سے میری آنکھوں کو روشن کر دے اور میرے ہر کام کو احسن طریق سے کر دے از وجود خودم بر آرم چنان که نماند تصرف شیطان میں اپنی خودی سے اس طرح آزاد ہو جاؤں کہ اس میں شیطان کا تصرف نہ ہو هدم بنیاد خود پرستی من گم کن از خویش و هستی کن میری خود پرستی کی بنیاد کو مسمار کر دے اور مجھے میری ذات سے بیگانہ کردے اور نئی زندگی دے کشتے دہ بوئے خود را نشان کہ دے نایدم قرار ازاں مجھے اپنی ذات کی پہچان دے ایسی کہ مجھے ایک دم بھی تیرے بغیر قرار نہ آئے دل من پاک کن زکبر و غرور سینه ام پر کن از خاطر نور میرے دل کو تکبر اور غرور سے پاک کر دے اور میرے سینہ کو اپنے نور سے پُر کر دے آنچنانم اسیر عشق خود بکن که نماند ز من نه شاخ و بن اپنے عشق کا مجھے اس طور سے اسیر کر کہ میری ہستی معدوم ہو جائے شور مجنون بریز در مست و مجذوب خود بگردانم میری جان میں مجنوں کی طرح سے شوق پیدا کر اور اپنی ذات کا مست اور مجذوب بنادے آنکه یکدم بجز تو ہوشش نیست آنکہ بے تو زبان و گوشش نیست اس طور سے کر دے کہ مجھے تیرے سوا کوئی ہوش نہ رہے اور یہ کہ تیرے بغیر نہ میری زبان چلے اور نہ کان سنیں آن بگردان مرا کسے خیزی نیست قدر او نزد او پشیزی نیست مجھے ایسا کر دے کہ مجھے کسی سے کوئی غرض نہ رہے اور میرے دل میں کسی کی قدر کھوٹے سکہ کے برابر بھی نہ رہے جانم