حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 116
حیات احمد 117 جلد اوّل حصہ اول میں قادرالکلام تھے اور عربی، فارسی اور اردو زبان پر پوری حکومت رکھتے تھے۔زمانہ بعثت سے پہلے آپ فارسی میں عموما نظم لکھا کرتے۔اور اس میں آپ نے عجیب وغریب دیوان لکھا ہے۔جو آپ کی پاک زندگی کا ایک مشاہد عدل ہے۔کیونکہ اس میں بجز حقائق قرآن مجید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت اور حمد الہی ور مختلف مذاہب کی تردید کے اور کچھ نہیں پایا جاتا۔ان دنوں آپ فرخ تخلص فرماتے تھے۔جو بعد میں فی الواقع فرخ ہی ثابت ہوا۔میری تحقیقات یہ بتاتی ہے کہ یہ دیوان نصف صدی سے زائد عرصہ پیشتر کا لکھا ہوا ہے۔اس کو پڑھ کر ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ عین عالم شباب میں آپ کن خیالات میں مست اور محو تھے۔اگر چہ مسیح موعود علیہ السلام کی شاعری کے متعلق بحث اپنے مقام پر ہو گی لیکن یہاں ضمناً ذکر ایک لفظ کی تشریح کے سلسلہ میں آ گیا۔اور میں اپنے دل میں جوش پاتا ہوں کہ اس سیرت کے پڑھنے والوں کو اس موقع پر حضرت فرخ قادیانی کے اس نصف صدی پیشتر کے کلام سے کچھ محفوظ کروں۔چنانچہ آپ اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلقات پر فرماتے ہیں۔من نہ پیچم سر از تو اے جاناں دامن خود ز دست من مربان اے میرے محبوب میں تیرے سے روگرداں نہیں ہوتا اپنادا من میرے ہاتھ سے نہ کھینچ من ز مادر برائے تو زادم ہست عشقت غرض ز ایجادم میری والدہ نے مجھے تیرے لیے پیدا کیا ہے میری پیدائش کی غرض ہی تیرا عشق ہے سوئے دیگر کسے میں یہ حضور که دلدارم بس ہست غفور * کسی دوسرے کی طرف توجہ سے نہ دیکھ کیونکہ میرا محبوب بہت غفور دل بدنیائے دوں چرا بندیم ما بیار عزیز خورسندیم ہم اس حقیر دنیا کے ساتھ کیسے دل لگا ئیں؟ ہم تو اپنے پیارے محبوب کے ساتھ ہی خوش ہیں دلير من تو ہستی اے جاناں دل بتو بسته ام ز ہر دو جہاں ہے۔اے میرے محبوب تو میرے دل میں بستا ہے میں نے دونوں جہانوں کو ترک کر کے تجھے اختیار کر لیا ہے