حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 117
حیات احمد 112 جلد اوّل حصہ اول ہے من ز مادر برائے تو زادم ہست عشقت غرض ز ایجادم میں اپنی ماں سے تیرے لئے پیدا کیا گیا ہوں میری پیدائش کی غرض تیرا عشق ہی ہے دل ز عشق کسے تپد مرا اے مبارک کسے کہ دید مرا میرا دل تیرے عشق میں تڑپتا ہے کیا ہی مبارک ہے وہ شخص جس نے مجھے دیکھ لیا روئے دلدار بر دل من تافت دل من مقصد دو عالم یافت میرے محبوب کا چہرہ میرے دل میں چمکتا ہے میرے دل نے دونوں جہانوں کا مقصد پالیا ہے پر سر ہر صدی برون آید آنکه دلدار را ہے شاید ہر صدی کے سر پر نمودار ہوتا ہے وہ جو کہ میرے محبوب کو پسند ہوتا ز خود گر دہی برائے نگار عرب خود را بتو بنهر دلدار اگر تو اپنے محبوب کیسے لئے اپنی عزت گنوا دے تو محبوب اپنی عزت تجھے دے دیتا ہے نفس را هر که از میان انداخت شب او روز گشت و ره شناخت جس نے بھی اپنے نفس کو فراموش کر دیا اس کی رات، دن میں تبدیل ہوگئی اور اس نے راہ حق کو پہچان لیا تا به نفس خود اسیر ضلال کشف راه خدا مبذر خیال جب تک تو اپنے نفس کی ضلالت کا غلام رہے گا اس وقت تک خدا تعالیٰ کی راہ کو خیال میں نہ لا ماه تاباں است صورت دلدار نفس تو پیش ماہ چوں دیوار میرے محبوب کا چہرہ چمکتے ہوئے چاند کی طرح سے ہے اور تیرانٹس اس چاند کے سامنے دیوار بن گیا ہے۔تا مرا بر رُخ تو سودائی است از خلائق نه غم نه پروائی است جب سے تیرے چہرے کا دیوانہ ہو گیا ہوں مجھے مخلوق سے نہ کوئی غم ہے اور نہ کوئی پرواہ ہے در کاروبار خود ہوشیار ما چو مستان فتاده بر در یار مخلوق اپنے کاروبار میں مشغول ہے اور ہم دیوانوں کی طرح سے اپنے محبوب کے دروازے پر پڑے ہیں خلق لے منہد سہو کا تب معلوم ہوتا ہے شاید کوئی اور لفظ ہوگا۔سے مبذ یہ لفظ بھی سہو کتابت لگتا ہے۔