حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 114 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 114

حیات احمد ۱۱۴ جلد اول حصہ اول عمر بگذشت و نماند است جز ایامی چند به که در یاد کسے صبح کنم شامے چند کہ دنیا را اسا سے محکم نیست و زندگی را اعتبارے ئے۔وَأَيسَ مَنْ خَافَ عَلَى نَفْسِهِ مِنْ آفَةِ غَيْرِه والسلام اس خط کو غور سے پڑھنے پر عجیب معرفت ہوتی ہے کہ آپ کو آخری الہام جو اپنی وفات کے متعلق ہوا وہ بھی یہی تھا۔مکن عمر ناپائدار مباش ایمن از بازی روزگار اور آپ نے یاد الہی میں مصروف ہونے کے لئے جس طرح پر والد مکرم سے اجازت چاہی۔اس میں بھی اسی سے استدلال فرمایا۔جلوت پرخلوت کو پسند کروں اس خط سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کسی شہرت و عظمت کے طلب گار نہ تھے۔اور خدا تعالیٰ کے ساتھ ایک تعلق صافی رکھتے تھے۔یہ امر واقع ہے کہ آپ کو گوشہ گزینی سے اس قدر محبت تھی کہ آپ کبھی جلوت میں نہ آتے اگر اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل مدنظر نہ ہوتی۔چنانچہ ایک مرتبہ فرمایا کہ:- اگر خدا تعالیٰ مجھے اختیار دے کہ حکوت اور جلوت میں سے تو کس کو پسند کرتا ہے تو اس پاک ذات کی قسم ہے کہ میں خلوت کو اختیار کروں۔مجھے تو کشاں کشاں میدانِ عالم میں انہوں نے بقیہ حاشیہ:۔عمر بگذشت و نماند است جز ایا می چند به که در یاد کسے صبح کنم شامے چند عمر گزرگئی ہے اور صرف چند قدم باقی رہ گئے ہیں بہتر ہے کسی کی یاد میں چند شاموں کو صبح کر دوں۔دنیا کی بنیاد مضبوط نہیں اور زندگی کا کوئی اعتبار نہیں۔وہ شخص مایوس ہو گیا جو دوسرے کی آفت دیکھ کر اپنے نفس کے بارہ میں خوف زدہ ہو جائے۔والسلام (ناشر)