حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 110 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 110

حیات احمد 11۔جلد اوّل حصہ اول فوت ہو چکے ہیں اور ان کے خلف الرشید لالہ کنور سین ایم۔اے لاہور کے لاء کالج کے پرنسپل ہیں۔ایڈیٹر ) ایک مرتبہ جب انہوں نے اس ضلع میں وکالت کا امتحان دیا تو میں نے ایک خواب کے ذریعہ سے ان کو بتلایا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسا مقدر ہے کہ اس ضلع کے کل اشخاص جنہوں نے وکالت یا مختاری کا امتحان دیا ہے فیل ہو جائیں گے۔مگر سب میں سے صرف تم ایک ہو کہ وکالت میں پاس ہو جاؤ گے۔اور یہ خبر میں نے تمہیں کے قریب اور لوگوں کو بھی بتائی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔“ تریاق القلوب روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۵۶ نشان نمبر ۳۵) راجہ تیجا سنگھ کی خبر وفات قبل از وقت مل گئی راجہ تیجا سنگھ صاحب (جن کا ذکر اس سوانح میں پہلے بھی آچکا ہے) کی وفات کی اطلاع اللہ تعالیٰ نے آپ کو قبل از وقت دے دی تھی۔اور لالہ بھیم سین کو حضرت نے آگاہ کر دیا تھا۔چنانچہ فرماتے ہیں کہ :- انہی وکیل صاحب یعنی لالہ بھیم سین صاحب کو جو سیالکوٹ میں وکیل ہیں۔اب فوت ہو چکے ہیں۔ایڈیٹر ) ایک مرتبہ میں نے خواب کے ذریعہ سے راجہ تیجا سنگھ کی موت کی خبر پا کر ان کو اطلاع دی کہ وہ راجہ تیجا سنگھ جن کو سیالکوٹ کے دیہات جاگیر کے عوض میں تحصیل بٹالہ میں دیہات مع اس کے علاقہ کی حکومت کے ملے تھے فوت ہو گئے ہیں اور انہوں نے اس خواب کو سن کر بہت تعجب کیا اور جب قریب دو بجے بعد دو پہر کے وقت ہوا تو مسٹر پرنسب صاحب کمشنر امرتسر نا گہانی طور پر سیالکوٹ میں آگئے اور انہوں نے آتے ہی مسٹر مکنیب صاحب ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کو ہدایت کی کہ راجہ تیجا سنگھ کے باغات وغیرہ کی جو ضلع سیالکوٹ وغیرہ میں ہیں۔بہت جلد ایک فہرست تیار ہونی چاہئے کیونکہ وہ کل بٹالہ میں فوت ہو گئے۔تب لالہ بھیم سین نے اس خبر موت پر اطلاع پا کر نہایت تعجب کیا کہ کیونکر قبل از وقت اس کے مرنے کی خبر ہوگئی۔