حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 106
حیات احمد 1۔4 جلد اوّل حصہ اول دی تھی کہ اس مقدمہ میں ہماری فتح ہو گی۔بعد اس کے ایسا اتفاق ہوا کہ جس روز اس مقدمہ کا اخیر حکم سنایا جانا تھا۔ہماری طرف سے کوئی شخص حاضر نہ ہوا اور فریق ثانی جو شائد پندرہ یا سوله آدمی تھے حاضر ہوئے۔عصر کے وقت اُن سب نے واپس آ کر بازار میں بیان کیا کہ مقدمہ خارج ہو گیا۔تب وہی شخص مسجد میں میرے پاس دوڑتا آیا اور طنزاً کہا کہ لو صاحب آپ کا مقدمہ خارج ہو گیا۔میں نے کہا کہ کس نے بیان کیا۔اس نے جواب دیا کہ سب مدعا علیہم آگئے ہیں اور بازار میں بیان کر رہے ہیں۔یہ سنتے ہی میں حیرت میں پڑ گیا۔کیونکہ خبر دینے والے پندرہ آدمی سے کم نہ تھے اور بعض اُن میں سے مسلمان اور بعض ہندو تھے۔تب جو کچھ مجھ کو فکر اور غم لاحق ہوا اُس کو میں بیان نہیں کر سکتا۔وہ ہند و تو یہ بات کہہ کر خوش خوش بازار کی طرف چلا گیا۔گویا اسلام پر حملہ کرنے کا ایک موقعہ اس کو مل گیا مگر جو کچھ میرا حال ہوا اُس کا بیان کرنا طاقت سے باہر ہے۔عصر کا وقت تھا میں مسجد کے ایک گوشہ میں بیٹھ گیا اور دل سخت پریشان تھا کہ اب یہ ہندو ہمیشہ کے لئے یہ کہتا رہے گا کہ کس قدر دعوی سے ڈگری ہونے کی پیشگوئی کی تھی اور وہ جھوٹی نکلی۔اتنے میں غیب سے ایک آواز گونج کر آئی اور آواز اس قدر بلند تھی کہ میں نے خیال کیا کہ باہر سے کسی آدمی نے آواز دی ہے۔آواز کے یہ لفظ تھے کہ ڈگری ہوگئی ہے مسلمان ہے!۔یعنی کیا تو باور نہیں کرتا۔تب میں نے اٹھ کر مسجد کے چاروں طرف دیکھا تو کوئی آدمی نہ پایا۔تب یقین ہو گیا کہ فرشتہ کی آواز ہے۔میں نے اُس ہندو کو پھر اُسی وقت بلایا اور فرشتہ کی آواز سے اُس کو اطلاع دی مگر اُس کو باور نہ آیا۔صبح میں خود بٹالہ کی تحصیل میں گیا اور تحصیلدار حافظ ہدایت علی نام ایک شخص تھا۔وہ اس وقت ابھی تحصیل میں نہیں آیا تھا اُس کا مثل خواں متھرا داس نام ایک ہندو موجود تھا۔میں نے اُس سے دریافت کیا کہ کیا ہمارا مقدمہ خارج ہو گیا ؟ اس نے کہا کہ نہیں بلکہ ڈگری ہو گئی۔میں نے کہا کہ فریق مخالف نے قادیان میں جا کر یہ مشہور کر