حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 105
حیات احمد ۱۰۵ جلد اوّل حصہ اول زمینداری مقدمات کے دوران میں آپ کے رویا ء صالحہ جن دنوں آپ حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کے حکم کی تعمیل کے لئے زمینداری مقدمات کی پیروی میں لگائے گئے تھے۔ان ایام میں بھی آپ اس حالت سے مستثنیٰ نہ تھے۔بہت سے واقعات قبل از وقت آپ پر کھولے جاتے تھے اور ان کی تعبیر مطابق واقعہ ہوتی۔یہاں تک کہ بعض مقدمات کے متعلق بھی قبل از وقت آپ کو نتائج کا علم دیا جاتا۔آپ کی عادت شریف میں تھا کہ ان خوابوں کو دوسرے لوگوں کو جو ہندو یا مسلمان ہوتے قبل از وقت سنا دیتے۔اور پھر جب وہ بشارت پوری ہو جاتی تو ان کے لئے بطور حجت ملزمہ ہو جاتی۔چنانچہ ان میں سے بعض میں یہاں درج کرتا ہوں۔خاندانی حالات کے ضمن میں میں نے اس مقدمہ کی کیفیت لکھ دی ہے جو مرزا غلام قادر صاحب مرحوم اپنے شرکاء سے کر رہے تھے۔اور جو گویا ایک خاص انقلاب کا باعث ہو گیا۔یہاں میں اس مقدمہ کی کیفیت حضرت اقدس کے اپنے الفاظ میں درج کرتا ہوں جو جھنڈا سنگھ نامی ایک دخیل کار پر تھا۔ڈگری ہو گئی ہے جھنڈا سنگھ وغیرہ دخیل کار نے جو دفعہ ۵ ایکٹ مزارعان کا دخیل کار تھا۔ایک درخت کیکر کا بلا اجازت مالکان کاٹ لیا تھا۔اس پر چودہ روپیہ کی نالش کی گئی تھی۔اور حضرت مرزا صاحب ہی اس مقدمہ کے پیروکار تھے۔آپ کو قبل از وقت اس مقدمہ کے نتیجہ اور انجام سے اللہ تعالیٰ نے خبر دے دی تھی کہ ڈگری ہوگئی ہے چنانچہ فرماتے ہیں۔”ہمارا ایک مقدمہ تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور میں چند موروثی آسامیوں پر تھا۔مجھے خواب میں بتلایا گیا کہ اس مقدمہ میں ڈگری ہو گی۔میں نے کئی لوگوں کے آگے وہ خواب بیان کی۔منجملہ اُن کے ایک ہندو بھی تھا جو میرے پاس آمد ورفت رکھتا تھا اس کا نام شرمیت ہے جو زندہ موجود ہے۔اُس کے پاس بھی میں نے یہ پیشگوئی بیان کر