حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 99 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 99

حیات احمد ۹۹ جلد اوّل حصہ اول اور جب میں حضرت والد صاحب مرحوم کی خدمت میں پھر حاضر ہوا تو بدستور اُن ہی زمینداری کے کاموں میں مصروف ہو گیا مگر اکثر حصہ وقت کا قرآن شریف کے تدبر اور تفسیروں اور حدیثوں کے دیکھنے میں صرف ہوتا تھا اور بسا اوقات حضرت والد صاحب کو وہ کتا بیں سنایا بھی کرتا تھا۔“ (کتاب البریه، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴ ۱۸ تا ۱۸۷ حاشیه ) حضرت مرزا صاحب کی زندگی اس طرح پر شروع سے لے کر اس زمانہ تک ایک نمونہ کی زندگی تھی۔اور زندگی کے جن جن حصوں اور حالتوں سے وہ گزرے وہ ان کے لئے گویا ایک مکتب تھیں چونکہ سیالکوٹ کے عہد ملازمت کے بعد آپ کی زندگی کا ایک دوسرا دور شروع ہونے والا تھا اس لئے جوں جوں وہ زمانہ قریب آتا جاتا تھا آپ کی توجہ تمام تر اسلام کی ترقی کی طرف ہوتی جاتی تھی۔سیالکوٹ کی زندگی میں بھی جیسا کہ جناب مولوی سید میر حسن صاحب قبلہ کی تحریر سے ثابت ہوتا ہے آپ کے اوقات گرامی پادریوں سے مباحثات میں خرچ ہوتے تھے۔اور ان کے دشمنوں تک کو ان کی پاکیزہ زندگی کا اعتراف ہے۔پادری ٹیلر صاحب سکاچ مشن سے تعلق رکھتے تھے وہ اپنے طبقہ میں نہ صرف معزز و ممتاز ہی تھے بلکہ ایک فاضل اور مشہور عالم تورات و انجیل کے سمجھے جاتے تھے۔وہ حضرت مرزا صاحب کی تقریر اور دلائل کے بڑے گرویدہ تھے۔حضرت مرزا صاحب کے پاس وہ رخصت کے وقت دفتر میں آجاتا اور آپ کے ساتھ چلا جاتا اور گھنٹوں اپنے تمام تکلفات کو چھوڑ کر حضرت مرزا صاحب کے معمولی مکان میں بیٹھا رہتا اور آپ کی باتوں اور صحبت سے فائدہ اٹھاتا۔پادریوں کو یہ امر نا گوار گزرا اور یہاں تک بھی کہا اس میں آپ کی اور مشن کی خفت ہے۔آپ وہاں نہ جایا کریں۔مگر پادری صاحب نے بڑی نرمی سے جواب دیا کہ یہ ایک عظیم الشان آدمی ہے تم اس کو نہیں سمجھتے میں سمجھتا ہوں۔چنانچہ اس کی یہ عقیدت یہاں تک بڑھتی گئی کہ جب وہ سیالکوٹ سے رخصت ہوا تو دفتر میں جا کر حضرت مرزا صاحب سے رخصت ہوا۔اور ان کے ساتھ معمولی فرش پر بیٹھا رہا۔اور صاحب ڈپٹی کمشنر کے دریافت کرنے پر بھی حضرت مرزا صاحب سے ہی ملاقات کی غرض بتائی۔