حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 97 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 97

حیات احمد ۹۷ سرسید کی تفسیر سے بیزاری جلد اول حصہ اوّل اسی سال سرسید احمد خان صاحب غفرلہ نے قرآن شریف کی تفسیر شروع کی تھی۔تین رکوع کی تفسیر یہاں میرے پاس آچکی تھی جب میں اور شیخ الہ داد صاحب مرزا صاحب کی ملاقات کے لئے لالہ بھیم سین صاحب کے مکان پر گئے تو اثناء گفتگو میں سرسید صاحب کا ذکر شروع ہوا اتنے میں تفسیر کا ذکر بھی آگیا۔راقم نے کہا کہ تین رکوعوں کی تفسیر آ گئی۔جس میں دعا اور نزول وحی کی بحث آ گئی ہے فرمایا :۔کل جب آپ آدیں تو تفسیر لیتے آویں۔جب دوسرے دن وہاں گئے تو تفسیر کے دونوں مقام آپ نے سنے اور سن کر خوش نہ ہوئے اور تفسیر کو پسند نہ کیا۔مرزا صاحب کی عمر اس زمانہ میں اس زمانہ میں مرزا صاحب کی عمر راقم کے قیاس میں تخمینا ۲۴ سے کم اور ۲۸ برس سے زیادہ نہ تھی۔غرضیکہ ۱۸۶۴ء میں آپ کی عمر ۲۸ برس سے متجاوز نہ تھی۔راقم میرحسن ان واقعات اور حالات پر جو عالی جناب مولوی سید میرحسن صاحب نے لکھے ہیں اس مقام پر کوئی تفصیلی بحث نہیں کروں گا ان پر اگر کچھ اضافہ کرنا ہو گا تو آگے چل کر بیان کروں گا۔ملازمت بھی ایک مکتب ہی تھا جیسا که مولوی سید میر حسن صاحب نے لکھا ہے حضرت مرزا صاحب عزلت گزین تھے۔اور ان کی ملاقات اگر کسی سے ہوتی تھی تو وہ یا تو علم دوست اشخاص تھے یا مذہبی انسان۔پھر اکثر وقت مذہبی مذاکرات میں صرف کرتے تھے۔دراصل یہ زمانہ ملازمت بھی گو نہ آپ کی ایک قسم کی تعلیم و تربیت ہی کا زمانہ تھا اور آپ نے اس سے بھی فائدہ اٹھایا چنانچہ لکھتے ہیں:۔ایسا ہی ان کے (والد صاحب) زیر سایہ ہونے کے ایام میں چند سال تک