حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 96
حیات احمد ۹۶ جلد اول حصہ اوّل تنخواہ ایک سو روپیہ ماہوار تھی میں نے ان کی خدمت میں عرض کی (مولوی سید میرحسن صاحب نے) آپ درخواست بھیج دیں۔چونکہ آپ کی لیاقت عربی زباندانی کی نہایت کامل ہے آپ ضرور اس عہدہ پر مقرر ہو جائیں گے فرمایا:۔میں مدرسی کو پسند نہیں کرتا کیونکہ اکثر لوگ پڑھ کر بعد ازاں بہت شرارت کے کام کرتے ہیں اور علم کو ذریعہ اور آلہ ناجائز کاموں کا کرتے ہیں میں اس آیت کے وعید سے بہت ڈرتا ہوں :۔أَحْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَازْوَاجَهُمُ (الشَّفْت : ۲۳) اس جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کیسے نیک باطن تھے۔“ انبیاء کو احتلام نہ ہونے کی حکمت ایک مرتبہ کسی نے پوچھا کہ انبیاء کو احتلام کیوں نہیں ہوتا۔آپ نے فرمایا کہ چونکہ انبیاء سوتے جاگتے پاکیزہ خیالوں کے سوا کچھ نہیں رکھتے اور ناپاک خیالوں کو دل میں آنے نہیں دیتے اس واسطے ان کو خواب میں بھی احتلام نہیں ہوتا۔“ ایک مرتبہ لباس کے بارہ میں ذکر ہورہا تھا۔ایک کہتا کہ بہت کھلی اور وسیع موہری کا پاجامہ اچھا ہوتا ہے۔جیسا کہ ہندوستانی اکثر پہنتے ہیں۔دوسرے نے کہا کہ تنگ موہری کا پاجامہ بہت اچھا ہوتا ہے۔مرزا صاحب نے فرمایا کہ :۔بلحاظ ستر عورت تنگ موہری کا پاجامہ بہت اچھا اور افضل ہے۔اور اس میں پردہ زیادہ ہے کیونکہ اس کی تنگ موہری کے باعث زمین سے بھی ستر عورت ہو جاتا ہے۔‘سب نے اس کو پسند کیا۔“ آخر مرزا صاحب نوکری سے دل برداشتہ ہو کر استعفیٰ دے کر ۱۸۶۸ء میں یہاں سے تشریف لے گئے۔ایک دفعہ ۱۸۷۷ء میں آپ تشریف لائے اور لالہ بھیم سین صاحب کے مکان پر قیام فرمایا۔اور بتقریب دعوت حکیم میر حسام الدین صاحب کے مکان پر تشریف لائے۔