حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 95
حیات احمد ۹۵ جلد اول حصہ اوّل مرحوم سامان دوا سازی اور دوا فروشی اور مطب رکھتے تھے۔اس سبب سے حکیم صاحب اور مرزا صاحب میں تعارف ہو گیا۔چنانچہ حکیم صاحب نے مرزا صاحب سے قانونچہ اور موجز کا بھی کچھ حصہ پڑھا۔جناب حکیم میر حسام الدین صاحب قبلہ حضرت میر حامد شاہ صاحب کے والد بزرگوار تھے۔ان کو حضرت مرزا صاحب کے ساتھ غایت درجہ کی محبت تھی۔چونکہ وہ اس زمانہ کے حالات سے واقف تھے اور انہوں نے حضرت مرزا صاحب کی عملی زندگی کو دیکھا ہوا تھا۔اس لئے وہ آپ کے دعوی پر ایمان لائے اور سلسلہ میں ایک دلیر اور بے ریا بزرگ کی حیثیت سے رہے۔حضرت صاحب خود بھی ان کی دوستی اور محبت کو یا درکھتے تھے۔چنانچہ سیالکوٹ کے لیکچر میں فرمایا۔” میرے اُس زمانہ کے دوست اور مخلص اس شہر میں ایک بزرگ ہیں یعنی حکیم حسام الدین صاحب جن کو اُس وقت بھی مجھ سے بہت محبت رہی ہے۔“ لیکچر سیالکوٹ ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۴۳ ) اگر چہ میر حکیم حسام الدین صاحب حضرت مرزا صاحب کے حضور نہایت بے تکلفی سے باتیں کرتے تھے مگر با ایں ہمہ اُن کے دل میں بڑا احترام تھا۔ایڈیٹر امتحان مختاری چونکہ مرزا صاحب ملازمت کو پسند نہیں فرماتے تھے اس واسطے آپ نے مختاری کے امتحان کی تیاری شروع کر دی۔اور قانونی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا، پر امتحان میں کامیاب نہ ہوئے اور کیونکر ہوتے وہ دنیوی اشغال کے لئے بنائے نہیں گئے تھے۔سچ ہے:۔ہر کسے را بهر کاری ساختند و مدرسی سے نفرت ان دنوں میں پنجاب یونیورسٹی نئی نئی قائم ہوئی تھی اس میں عربی استاد کی ضرورت تھی جس کی ترجمہ: ہر ایک کو کسی کام (خدمت) کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔