حیات شمس — Page 51
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس میں آنا سخت مشکل ہوگیا کیونکہ اس نے اپنے آپ کو شرق الاردن کا ایک رئیس اور عیسائی کہا تھا۔نیز اس نے یہ بھی سمجھ لیا کہ مباحثہ کرنا کوئی خالہ جی کا گھر نہیں ہے اس لئے وہ بھی واپس قدس چلا گیا۔51 اس کے بعد محمد شنقیطی مغربی کو جو بہت مدت تک مکہ مکرمہ میں درس دیتے رہے اور مصر میں بھی اکابر علماء میں شمار کئے جاتے ہیں مصر سے بلوایا اور پھر 24 اگست کو اسے نیز عوام اور علماء کا ایک بڑا گر وہ جس میں قاضی حیفا بھی تھا، لے کر ایک بجے کے قریب کہا بیر پہنچ گئے جن کے بیٹھنے کے لئے گاؤں سے باہر خروب کے درختوں کے نیچے چٹائیاں بچھا دی گئیں اور گدیلے وغیرہ بچھا دیئے گئے۔چونکہ ان کے ساتھ بہت سے اوباش لوگ بھی تھے اس لئے احمدیان کبابیر کی رائے تھی کہ ان سے گفتگو نہ کی جائے اور اتفاقاً ان کے آنے سے ایک گھنٹہ قبل مجھے ناظر صاحب دعوة و تبلیغ کی طرف سے میرے برادر مرحوم بشیر احمد کے وفات پا جانے کا تار ملا تھا۔چونکہ میں چند روز کے بعد مصر آ جانے والا تھا اس لئے ضروری سمجھا کہ اسی روز ان سے مباحثہ کر لیا جائے تا بعد میں یہ نہ کہہ سکیں کہ دیکھو ہم ان سے مباحثہ کیلئے گئے مگر وہ گھر سے ہی نہ نکلے۔اللہ تعالیٰ سے دعا کر کے میدان مباحثہ میں چلے گئے۔(الفضل قادیان 20 نومبر 1930ء) نوٹ : اس مباحثہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو کامیابی سے ہمکنار فرمایا۔اس مباحثہ کی تفصیل دمشق کے باب میں بالتفصیل پیش کر دی گئی ہے۔مؤلف۔میرے والد حضرت میاں امام الدین سیکھوانی حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کا بچپن سیکھواں میں گذرا، جہاں مدرسہ میں آپ نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔پیدائشی احمدی ہونے کی برکت سے بچپن سے ہی آپ کا اپنے والد گرامی اور دیگر بزرگان کے ہمراہ قادیان آنا جانا رہا۔حضرت مولوی صاحب کے والد ماجد کا وصال 8 مئی 1941ء کو ہوا جبکہ مولانا موصوف انگلستان میں خدمات بجالا رہے تھے۔لندن سے آپ نے الفضل کیلئے ایک مضمون ارسال کیا جو دراصل آپ کے والد صاحب کی سیرت و سوانح پر مشتمل ہے، تاہم اس میں مولانا موصوف نے اپنے بچپن تعلیم اور وقف کے حوالہ سے بھی اظہار خیال فرمایا ہے۔حضرت مولانا جلال الدین