حیات شمس — Page 52
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب شمس لندن سے تحریر فرماتے ہیں : وو 52۔۔۔میرے والد ماجد میاں امام الدین صاحب رضی اللہ عنہ 8 ہجرت بروز جمعرات اس دار فانی سے انتقال فرما گئے۔انا للہ وانا اليه راجعون۔اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس عطا فرمائے آمین۔مجھے ان کی اس دار فانی سے رحلت کی افسوسناک خبر 10 ہجرت بروز ہفتہ ساڑھے گیارہ بجے بذریعہ تارملی۔اس کے بعد بروز سه شنبه حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصره العزیز کی طرف سے تعزیت کا تار پہنچا جس میں حضور نے والد صاحب کی وفات کی خبر دینے کے علاوہ ان کے لئے دعائے مغفرت فرمائی نیز سارے خاندان کے لئے بھی کہ اللہ تعالیٰ ہمارا والی و ناصر ہو۔حضور کا تار میرے لئے خاص طور پر باعث ازدیاد تسکین ہوا۔" ہے تو بھاری مگر خدائی امتحان کو قبول کر جب ہفتہ کے روز مجھے یہ غیر متوقع اندوہناک خبر ملی اس وقت چند منٹ تک تو سکون و جمود کی حالت طاری رہی۔پھر والد صاحب مرحوم کے ہمیشہ کے لئے داغ مفارقت دے جانے کے تصور اور ان کی تکالیف کے خیال نے جو انہوں نے میرے بچپن سے لے کر اب تک میری خاطر اٹھائیں اور پھر اپنی کوتاہیوں کو یاد کر کے جو میری طرف سے ان کی خدمت کے سلسلہ میں ہوئیں سخت حزین و شرمسار ہوا۔جب میں استغفار پڑھتا مرحوم کیلئے دعا کرتا ہوا اضطرابی و بے چینی کے عالم میں ایک کمرہ سے دوسرے کمرہ میں چکر لگا رہا تھا اور آنکھوں سے آنسو رواں تھے تو اچانک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ الہام میری زبان پر جاری ہوا۔" ہے تو بھاری مگر خدائی امتحان کو قبول کر۔پس میں نے قبول کیا اور تذکرہ کھول کر دیکھا تو اس سے پہلے یہ الہام تھا۔إِنَّمَا يُرِيْدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً۔اور تفہیم دیکھی تھی کہ اے اہل خانہ خدا تعالیٰ تمہارا امتحان کرنا چاہتا ہے تا معلوم ہو کہ اس کے اراده پر ایمان رکھتے ہو یا نہیں اور تا وہ اے اہل بیت تمہیں پاک کرے جیسا کہ حق ہے پاک کرنے کا۔پس خدا تعالیٰ کے ارادہ پر امنا کہا اور سمجھا کہ یہ ایک خدائی امتحان ہے اور شاید اس سے اللہ تعالیٰ کو ہمارے قصوروں اور گناہوں کو بخشنا مد نظر ہے۔