حیات شمس

by Other Authors

Page 38 of 748

حیات شمس — Page 38

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 38 جن سات خوش نصیبوں کو سٹیج پر بلا کر اپنے دست مبارک سے انعامی تھیلیاں عطا فرما ئیں ان میں مولانا شمس صاحب بھی شامل تھے۔آپ کو یہ انعام تفسیر صغیر جیسی شاندار تالیف کی بروقت اشاعت کے مثالی کارنامہ کے باعث عطا کیا گیا تھا۔( تاریخ احمدیت جلد نمبر 18 مطبوعہ ہندوستان 2007 ، صفحہ 534۔بحوالہ الفضل 2 جنوری 1958ء صفحہ 2) 1966 1960 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے رکن آپ 1960 ء سے لیکر 1966ء تک مسلسل سات سال مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے عہد یدار رہے۔پہلے قائد تربیت کے طور پر اور پھر قائد تعلیم کی حیثیت میں آپ نے کام کیا۔اس دوران بیرونی مجالس کے اجتماعات میں بھی آپ کو شرکت کرنے کی توفیق ملی۔صدر مجلس کار پرداز مصالح قبرستان الفضل 23 اکتوبر 1966 ، صفحہ 5) آپ 55-1954 ءتاوفات صدر مجلس کار پرداز مصالح قبرستان کے طور پر خدمات بجالاتے رہے۔حضرت مصلح موعودؓ کے پیغامات 1963ء کے جلسہ سالانہ ربوہ کے موقع پر چونکہ حضرت خلیفہ امسیح الثانی خود تشریف نہیں لا سکے تھے اس لئے حضور کے ارشاد پر حضرت مولانا شمس صاحب نے نہ صرف حضور کا جلسہ سالانہ کے افتتاحی اجلاس کے لئے پیغام 26 دسمبر کو پڑھ کر سنایا بلکہ 28 دسمبر کو اختتامی اجلاس کے لئے بھی حضور کا پیغام پڑھ کر سنایا۔افتتاحی اجلاس کے موقعہ پر آپ نے حضور کا پیغام سنانے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر فرمودہ دعا پڑھ کر سنائی جو حضور اقدس نے جلسہ سالانہ میں شریک ہونے والے احباب کے لیے فرمائی تھی۔اس کے بعد آپ نے حضور کے ارشاد کے ماتحت اجتماعی دعا کروائی۔علاوہ ازیں اجتماعی دعا کے بعد آپ نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی ا وہ پیغام بھی پڑھ کرسنایا جوحضور نے وقف جدید کے ساتویں سال کے آغاز پر احباب جماعت کے نام دیا تھا۔روزنامه الفضل ربوه 2 جنوری 1964ءصفحہ 1و5 )