حیات شمس

by Other Authors

Page 37 of 748

حیات شمس — Page 37

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 37 حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب۔حضرت مولانا اللہ دتا ابوالعطاء صاحب جالندھریؒ اور حضرت ملک عبد الرحمن خادم صاحب گجراتی۔دیکھیں الفضل ربوہ 15 مارچ 1957 ء نیز حیات بشیر ص 201-202) ایک تقریب میں حضرت حافظ روشن علی صاحب کے ذکر خیر کے ساتھ حضرت قمر الانبیاء صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے فرمایا: مجھے یاد ہے ایک دفعہ رسالہ الفرقان کے موجودہ ایڈیٹر محترم مولوی ابوالعطاء صاحب کے متعلق ان کی طالبعلمی کے زمانہ میں (حضرت حافظ روشن علی صاحب نے ) فرمایا کہ یہ نو جوان خرچ کے معاملہ میں کچھ غیر محتاط ہے مگر بڑا ہونہار اور قابل توجہ اور قابل ہمدردی ہے۔کاش ! اگر حضرت حافظ صاحب اس وقت زندہ ہوتے تو محترم مولوی ابوالعطاء صاحب اور محترم مولوی جلال الدین شمس صاحب کے علمی کارناموں کو دیکھ کر ان کو کتنی خوشی ہوتی کہ میرے شاگردوں کے ذریعہ میری الفضل ربوہ 15 دسمبر 1961ء) یا دزندہ ہے“۔ربوہ میں یوم احتجاج کشمیر کو بھارت میں مدغم کرنے کے اعلان پر 26 جنوری 1957ء کور بوہ میں یوم احتجاج منایا گیا۔اس روز ربوہ میں صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید کے جملہ دفاتر اور تعلیمی اداروں میں تعطیل عام رہی۔تمام دکانیں اور تجارتی کاروبار بندر ہے۔اس روز مسجد مبارک میں ایک احتجاجی جلسہ مولانا جلال الدین صاحب شمس کی زیر صدارت منعقد ہوا۔تقاریر کے علاوہ قرارداد کے ذریعہ اقوام متحدہ ، حکومت پاکستان اور عوام کو کشمیر کی آزادی کی طرف توجہ دلائی گئی نیز یقین دلایا گیا کہ اس سلسلہ میں اگر حکومت پاکستان کوئی قدم اٹھائے تو جماعت احمد یہ ہرممکن قربانی کے لئے الفضل 29 جنوری 1957ء صفحہ 1) تیار ہے۔حضرت مصلح موعود کا اظہار خوشنودی 1957ء میں حضرت مصلح موعودؓ نے ادارۃ المصنفین کا قیام فرمایا جس کے ممبران میں حضور نے مولانا شمس صاحب کو بھی شامل فرمایا۔اس وقت آپ مینیجنگ ڈائریکٹر الشرکۃ الاسلامیۃ ربوہ تھے۔اسی سال جلسہ سالانہ کے موقع پر حضور نے 27 دسمبر کو اپنی دوسری تقریر کے دوران جو سال گزشتہ کے کام کے تبصرہ اور نئے سال کے پروگرام سے متعلق تھی ، میں اظہار خوشنودی کے طور پر