حیات شمس

by Other Authors

Page 642 of 748

حیات شمس — Page 642

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 610 ذریعہ سے مقاصد اسلام ان لوگوں پر ظاہر کریں۔لیکن میں عموماً اس کا جواب ہاں کے ساتھ کبھی نہیں دوں گا۔میں ہرگز مناسب نہیں جانتا کہ ایسے لوگ جو اسلامی تعلیم سے پورے طور پر واقف نہیں اور اس کی اعلیٰ درجہ کی خوبیوں سے بکلی بے خبر اور نیز زمانہ حال کی نکتہ چینیوں کے جوابات پر کامل طور پر حاوی نہیں ہیں اور نہ روح القدس سے تعلیم پانے والے ہیں وہ ہماری طرف سے وکیل ہو کر جائیں۔میرے خیال میں ایسی کارروائی کا ضرر اس کے نفع سے اقرب اور اسرع الوقوع ہے الا ماشاء اللہ۔بلا شبہ یہ سچ بات ہے کہ یورپ اور امریکہ نے اسلام پر اعتراضات کرنے کا ایک بڑا ذخیرہ پادریوں سے حاصل کیا ہے اور ان کا فلسفہ اور طبعی بھی ایک الگ ذخیرہ نکتہ چینی کا رکھتا ہے۔میں نے دریافت کیا ہے کہ تین ہزار کے قریب حال کے زمانہ نے وہ مخالفانہ باتیں پیدا کی ہیں جو اسلام کی نسبت بصورت اعتراض سمجھی گئی ہیں۔حالانکہ اگر مسلمانوں کی لا پرواہی کوئی بد نتیجہ پیدا نہ کرے تو ان اعتراضات کا پیدا ہونا اسلام کے لئے کچھ خوف کا مقام نہیں۔بلکہ ضرور تھا کہ وہ پیدا ہوتے تا اسلام اپنے ہر یک پہلو سے چمکتا ہوا نظر آتا۔لیکن ان اعتراضات کا کافی جواب دینے کے لئے کسی منتخب آدمی کی ضرورت ہے جو ایک در یا معرفت کا اپنے صدر منشرح میں موجود رکھتا ہو۔جس کے معلومات کو خدا تعالیٰ کے الہامی فیض نے بہت وسیع اور عمیق کر دیا ہو۔اور ظاہر ہے کہ ایسا کام ان لوگوں سے کب ہوسکتا ہے جن کی سماعی طور پر بھی نظر محیط نہیں۔اور ایسے سفیر اگر یورپ اور امریکہ جائیں تو کس کام کو انجام دیں گے اور مشکلات پیش کردہ کا کیا حل کریں گے؟ اور ممکن ہے کہ ان کے جاہلانہ جوابات کا اثر معکوس ہو جس سے وہ تھوڑا سا ولولہ اور شوق بھی جو حال میں امریکہ اور یورپ کے بعض منصف دلوں میں پیدا ہوا ہے جاتا رہے اور ایک بھاری شکست اور ناحق کی سبکی اور نا کامی کے ساتھ واپس ہوں۔سو میری صلاح یہ ہے کہ بجائے ان وعظوں کے عمدہ عمدہ تالیفیں ان ملکوں میں بھیجی جائیں۔اگر قوم بدل و جان میری مدد میں مصروف ہو تو میں چاہتا ہوں کہ ایک تفسیر بھی تیار کر کے اور انگریزی میں ترجمہ کراکر ان کے پاس بھیجی جائے۔میں اس بات کو صاف صاف بیان کرنے سے نہیں رہ سکتا کہ یہ میرا کام ہے۔دوسرے سے ہرگز ایسا نہیں ہوگا جیسا مجھ سے یا جیسا اس سے جو میری شاخ ہے اور مجھ ہی میں داخل ہے۔ہاں اس قدر میں پسند کرتا ہوں کہ ان کتابوں کے تقسیم کرنے کے لئے یا ان لوگوں کے خیالات اور اعتراضات کو ہم تک پہنچانے کی غرض سے چند آدمی ان ملکوں میں بھیجے جائیں جو امامت اور مولویت کا دعویٰ نہ کریں بلکہ ظاہر کر دیں کہ ہم اس لئے بھیجے گئے ہیں کہ تا کتابوں کو تقسیم کریں اور اپنے معلومات کی حد تک سمجھا دیں اور اپنے مشکلات اور مباحث دقیقہ کا حل ان اماموں سے چاہیں