حیات شمس

by Other Authors

Page 599 of 748

حیات شمس — Page 599

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 567 اس نوجوان نے وہیں اعلان کر دیا کہ اگر ہمیں یہاں اجازت نہیں دی جاتی تو ہم کھلے میدان میں ان اعتراضات کا جواب دیں گے۔مسلمانو! چلے آؤ۔اُسی وقت جلسہ سے سب مسلمان اُٹھ کھڑے ہوئے اور سامنے کے کھلے میدان میں جمع ہونے شروع ہو گئے۔چند نو جوان نزدیک کے کسی نواب صاحب کے ڈیرہ سے کرسیاں اور میز لینے دوڑے گئے۔لیکن اُن کو جواب ملا یہ سامان ہمارے نجی مہمانوں اور دوستوں کی ملاقاتوں کیلئے رکھا ہوا ہے مذہبی اکھاڑوں کے لئے نہیں۔اتنے میں ایک شخص کہیں سے لکڑی کا ایک سٹول اُٹھا لایا۔نوجوان جھٹ اس پر کھڑا ہو گیا اور اس نے اس سٹول پر کھڑے ہو کر تقریر شروع کر دی۔چند منٹ میں ہم نے دیکھا کہ وہ منتشر مجمع ایک منظم جلسہ کی صورت اختیار کر گیا۔اُسی آن نواب صاحب کے ڈیرہ سے میز کرسیاں بھی پہنچ گئیں اور سٹیج لگ گیا۔لوگ گھاس پر ہی بیٹھ گئے۔قریباً ڈیڑھ گھنٹہ تقریر ہوئی جس سے مسلمان تو خوش تھے ہی ہندؤوں کو بھی سوال جواب یا اعتراض کی جرات نہ ہوئی۔یہ نوجوان مولانا جلال الدین شمس تھے جن کواللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے بعد میں قابلِ رشک خدماتِ دین کے مواقع سے نوازا جس کے نتیجہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی سے جن تین نامور ہستیوں نے ”خالد کا خطاب پایا ،مولانا جلال الدین صاحب شمس ان میں ایک تھے۔آنانکه هست کوچه ثبت است انصار اللہ میں خدمات جاناں مقام جریده عالم دوام شاں شاں مکرم چوہدری محمد ابراہیم صاحب، ایڈیشنل قائد عمومی مجلس انصار اللہ یوکے) جماعت احمدیہ کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو بعض خوش قسمت بزرگ ایسے نظر آتے ہیں جنہوں نے اپنی خدا داد صلاحیتوں اور جذبہ خدمت دین کو اس طرح احمدیت پر نچھاور کیا ہے کہ ان کے نقوش پانے تاریخ پر بہت گہرا اثر چھوڑا ہے اور انہوں نے آئندہ نسلوں کے لئے ایسی داستانیں رقم کر دیں کہ ان کی صدائے بازگشت مدت مدید تک سنی جاتی رہے گی۔آئندہ آنے والے لوگ ان کی قربانیوں اور اپنے خون سے شجر احمدیت کی آبیاری کی بھینی بھینی خوشبو سونگھتے رہیں گے اور اپنے لئے مشعل راہ پائیں گے۔نیز انہوں نے اپنی علمیت اور شبانہ روز کاوشوں کی مقبولیت کا سر ٹیفکیٹ اپنی زندگی ہی میں حاصل کر لیا۔انہی خوش قسمت بزرگوں میں سے ایک نمایاں نام حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کا ہے