حیات شمس — Page 600
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 568 جنہوں نے اپنی زندگی ہی میں نمایاں خدمات کی بناء پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ سے خالد احمدیت کا لقب پایا۔اپنی لسانی اور قلمی خدمات کے موتی ہر جگہ بکھیرے اپنوں اور غیروں سے داد تحسین حاصل کی۔پُر وقار چہرہ اور متاثر کرنے والی شخصیت کے مالک تھے۔اپنوں کیلئے نرم، رافت اور محبت کے موتی بکھیر نے والے اور دشمن کیلئے بنگی تلوار اور ان کے چھکے چھڑانے والے تھے۔جس میدان میں بھی گئے اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت کے سہارے فتح یاب ہو کر نکلے۔جماعتی خدمات کے علاوہ ذیلی تنظیموں میں بھی نمایاں خدمات کی توفیق پائی۔تاریخ انصار اللہ کی رو سے آپ نے 1960 ء سے اپنی زندگی کے آخری ایام (1966ء) تک قائد تعلیم۔قائد تربیت اور قائد اصلاح وارشاد کی حیثیت سے نمایاں خدمات کی توفیق پائی۔چہرہ پر ایک خاص نورانی رعب تھا۔مجلس میں تشریف لاتے تو ان کی رائے کو ایک خاص قسم کی اہمیت دی جاتی اس میں علمیت۔تجربہ اور دعاؤں کا عنصر شامل ہوتا۔سلسلہ کے بہت سے اعلیٰ درجہ کے فرائض کی بجا آوری آپ کے سپرد تھی اس لئے بہت ہی معمور الاوقات تھے۔1956ء میں انصار اللہ کے سالانہ اجتماع کے موقعہ پر شوری انصار اللہ میں یہ فیصلہ ہوا کہ انصار اللہ کا اپنا جھنڈا ہو اور انعامی واعزازی جھنڈا بھی دیا جایا کرے۔اس جھنڈے کا ڈیزائن کیا ہو اور رنگ اور سائز کیا ہو یہ تفصیلات طے کرنے کے لئے شوری نے ایک سب کمیٹی مقرر کی جس کے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کے ساتھ دوسرے اہم رکن آپ تھے۔بین الاقوامی طور پر انصار اللہ کے پاس جو جھنڈا ہے وہ اس سب کمیٹی کا تشکیل کر دہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جماعت کے افراد میں اسلامی تعلیم کو راسخ کرنے کے لئے امتحان کا طریق اپنانے کا اشارہ دیا تھا جسے انصار اللہ نے پہلی دفعہ اپنے سالانہ لائحہ عمل میں اس وقت شامل کیا جب آپ مجلس انصار اللہ عالمگیر کے قائد تعلیم تھے۔آپ بڑی محنت سے انصار اللہ کے لئے کورس تجویز کر کے مجلس عاملہ مرکزیہ سے اس کی منظوری لیتے اس کو اخبارات اور رسائل میں شائع کرواتے اور انصار کو ان امتحانات میں شامل ہونے کی تحریک فرماتے اور زعماء کی وساطت سے پرچے حل کروا کر مرکز میں منگواتے اور خود مارکنگ (Marking) کر کے نتیجہ مرتب کرتے اور اس کو اخبارات میں شائع کرواتے تاکہ حوصلہ افزائی کے علاوہ دوسرے انصار کو بھی تحریک ہو سکے۔آج نصف صدی سے زائد وقت گزر جانے کے باوجود انصار اللہ میں امتحانات کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری و ساری ہے۔ان بزرگوں نے جو نقوش پا چھوڑے تھے جماعت آج بھی ان کی پیروی کر کے مفاد اٹھا رہی ہے۔خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را