حیات شمس

by Other Authors

Page 598 of 748

حیات شمس — Page 598

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس جذبہ غیرت دینی کا ایک واقعہ 566 مکرم محترم کیپٹن شیخ نواب الدین صاحب۔ربوہ) میرٹھ (یوپی ہندوستان ) میں نوچندی کا میلہ بہت مشہور ہے۔یہ سردیوں میں ہر سال بڑی دھوم دھام سے ہوتا تھا۔اور ایک ہفتہ رہا کرتا تھا۔میلوں لمبے بازار لگتے تھے جہاں اشیائے خورونوش کے علاوہ بھی ہر قسم کی ضروریات ملتی تھیں۔لاکھوں نفوس کا مجمع ہوتا تھا۔ملک کے بڑے بڑے رؤسا، راجے ،نواب اپنے لئے علیحدہ علیحدہ زمین ریز رو کروا کر اپنی اور مہمانوں کی رہائش وغیرہ کے لئے وسیع کیمپ لگواتے تھے۔ہزاروں دکاندار ملک کے بڑے بڑے شہروں سے آن کرد کا نہیں لگواتے تھے۔ہزاروں تانگے اور ٹمٹیں دوسرے اضلاع سے محض اس میلہ کے دوران آمدنی پیدا کرنے کے لئے آن کر شہر کی کمیٹی کو پورے سال کا ٹیکس ادا کرتے تھے لیکن ہجوم کا یہ عالم ہوتا تھا کہ اول تو سواری کا ملنا ہی مشکل ہوتا تھا اور ملتی بھی تھی تو حال یہ ہوتا تھا کہ ایک ایک یکہ میں دس دس سواریاں ٹھونسی جاتی تھیں۔میں 1924ء میں ملازمت کے سلسلہ میں وہاں متعین تھا۔میرا نو جوانی کا زمانہ تھا اور طبیعت ایسے میلوں سے متنفر تھی۔میرا قیام محترم شیخ محمد حسین صاحب ( ریٹائر ڈ ڈپٹی انسپکٹر مدارس اسلامیہ ) کے ہاں تھا۔ان کے بچوں کو نو چندی دیکھنے کا شوق تھا۔ڈپٹی صاحب کے ارشاد پر کہ وہاں سے چند ضروریات زندگی خرید لائیں گے اور بچوں کا شوق بھی پورا ہو جائے گا میں اُن کے ساتھ چلا گیا۔ضروریات تو ہم نے جلد ہی خرید لیں۔بازاروں میں سخت بھیڑ تھی اس لئے واپسی پر اس سے بچنے کے لئے ہم رؤسا کی قیام گاہوں کی طرف چلے گئے جہاں ہمیں ایک احمدی دوست ملا جس کے ساتھ ایک منحنی سا نوجوان تھا جسکی عمر بمشکل اٹھارہ سال کے قریب معلوم ہوتی تھی۔ہمارا قافلہ تھوڑی دور ہی چلا تھا کہ ایک خیمہ کے آگے وسیع شامیانہ کے نیچے جلسہ ہوتا دکھائی دیا۔تقریر ہورہی تھی اور سینکڑوں کی تعداد میں سامعین کرسیوں پر بیٹھے تھے۔قریب جا کر معلوم ہوا کہ آریہ سماج کا جلسہ ہو رہا ہے۔ہم بھی بیٹھ گئے۔تقریر کا سارا زور اسلام کے خلاف اعتراضات پر تھا۔چند منٹ کے بعد تقریر ختم ہوئی تو اُس نوجوان نے اُٹھ کر صد رجلسہ سے درخواست کی کہ چونکہ اسلام پر اعتراضات کئے گئے ہیں اس لئے ہمیں ان کے جوابات کا موقعہ دیا جائے۔سامعین میں مسلمانوں کی خاصی تعداد تھی جو نو جوان کی جرات پر حیران ہو کر اُس کی طرف متوجہ ہو گئے۔صدر جلسہ نے یہ عذر کر کے کہ یہ اُن کا اپنا پرائیویٹ جلسہ ہے کہا کہ اسکی اجازت نہیں دی جاسکتی۔