حیات شمس — Page 582
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 550 مولانا جلال الدین شمس صاحب کو گئے تو برائے مہربانی ان کو بیرون ملک سے واپس بلا لیں۔دراصل حضور کے خاندان کے گھر اور مولوی شمس کے گھر کے درمیان میں راستہ میں ریتی چھلا آتا تھا اور جب بھی مولوی امام الدین صاحب یہ خط لکھتے اور حضور کو دینے جاتے تو جب ریتی چھلا کے پاس پہنچتے تو وہ خط پھاڑ دیتے۔کئی دفعہ انہوں نے یہ خط لکھا لیکن حضور کی خدمت میں پیش کرنے سے پہلے ہی راستے میں پھاڑ دیا اور وہ اسی بیماری میں جبکہ مولانا شمس صاحب انگلستان ہی میں تھے فوت ہو گئے۔دراصل بیٹے سے محبت کی وجہ سے وہ اپنے بیٹے کو بہت یاد کرتے تھے مگر حضور کی خدمت میں یہ عرض کرنے کی ہمت بھی نہیں کر پاتے تھے۔چونکہ مولانا شمس صاحب کے بیٹے ڈاکٹر صلاح الدین کی شکل وصورت بہت زیادہ اپنے والد سے ملتی تھی اس لئے مکرم امام الدین صاحب ہمیشہ کہتے ” صلاح الدین کو میرے پاس بٹھا دو۔مجھے اس میں جلال الدین نظر آتا ہے۔ایک دفعہ مولانا جلال الدین شمس صاحب کراچی ڈرگ روڈ میں جماعت کے کسی کام کی غرض سے گئے۔میرے گھر بھی گئے۔میں اس وقت کراچی میں اپنے خاوند مرحوم کے ساتھ مقیم تھی جو Air force میں تھے۔گرمیوں کے دن تھے اور ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی انہوں نے باہر Back yard میں چار پائی بچھائی اور وہاں لیٹ گئے اور کہنے لگے یہاں تو جنت کی ہوا ہے یہاں سے جانے کو دل نہیں کر رہا۔یہ ان کا کراچی کا آخری سفر تھا۔اس کے دو مہینے بعد آ پکی وفات ہوگئی۔وہ واقعی اپنے وقت کے باکمال وجود تھے مکرم عبدالباری قیوم صاحب شاہد ) وہ واقعی اپنے وقت کے باکمال وجود تھے۔آخر کیوں نہ ہوتا، کیونکہ وہ یکتائے زمانہ، فاضل اجلل استاد عالم با عمل شاگرد تھے۔میں نے ان کی زندگی کے آخری دس سالوں کا بہت قریب سے ہو کر مطالعہ کیا۔ان کے ساتھ ایک عہد گذرا اور ان سے بہت کچھ استفادہ کرنے کا موقعہ ملا۔اس مشاہدہ کی بناء پر میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ وہ واقعی خالد بن ولید اور ابن عباس کے خطاب کہلائے جانے کے مستحق تھے۔جن کا بچپن بھی قابل رشک اور جن کی جوانی بھی قابل رشک تھی۔جن کی اعلیٰ صلاحیتوں کو بیمثال و با کمال اساتذہ نے جلاء بخشی اور اس طرح اس سونا نے کندن میں تبدیل ہو کر حضرت الصلح الموعود رضی اللہ عنہ کی قوت قدسی اور خلافت حقہ کے حق میں ایک زندہ و تابندہ دلیل کی صورت اختیار کی۔جس کی ساری زندگی بھی