حیات شمس — Page 554
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 522 توفیق نہیں ملی۔توفیق ملی تو شمس صاحب کو ملی تا اس ذریعہ سے رسول کریم ﷺ کی یہ پیشگوئی پوری ہو کہ جب آخری حملہ کا وقت آئے گا اس وقت شمس نامی ایک شخص مغرب سے مشرق کی طرف واپس آئے گا اور اس کے آنے کے ساتھ اسلام کے جارحانہ اقدام اور اسکے حملہ عظیمہ کی ابتداء ہوگی اور نوجوان ایک دوسرے کے پیچھے قربانی کیلئے بڑھتے چلے جائیں گے۔پروانہ کیسا بے حقیقت اور بے عقل جانور ہے مگر پروانہ بھی شمع پر جان دینے کیلئے تیار ہو جاتا ہے۔اگر پروانہ شمع کیلئے اپنی جان قربان کر سکتا ہے تو کیا ایک عقلمند اور باغیرت انسان خدا اور اس کے رسول کیلئے اپنی جان دینے کو تیار نہیں ہو گا ؟ اس کے بعد میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور آپ لوگوں کو بھی اسلام کی خدمت کی ذمہ داری ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دینے کا موقعہ دے تا کہ جب ہم خدا تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہوں تو ان مجرموں کی طرح کھڑے نہ ہوں جن کے ذمہ خدا تعالیٰ کا قرضہ ہوگا بلکہ ان لوگوں کی صف میں کھڑے ہوں جنہوں نے اس کا حق ادا کر دیا اور جن کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے: فمنهم من قضى نحبه ومنهم من ينتظر (الاحزاب:24) (فرمودہ 16 اکتوبر 1946 ء از الفضل ربوہ 29 جنوری 1961ء) شمس صاحب نے اس کام میں جان ڈال دی ہے قیام پاکستان کے بعد حضرت مولانا شمس صاحب کے سپرد نظارت تالیف و اشاعت کا کام کیا گیا۔سید نا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے 1952ء کی مجلس شوری کے موقع پر آپ کے بارہ میں ارشاد فرمایا: پھر تصنیف و اشاعت کا محکمہ ہے۔یہ کام نیا شروع ہوا ہے لیکن ایک حد تک اس کی اٹھان بہت مبارک ہے۔شمس صاحب نے اس کام میں جان ڈال دی ہے مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ اب مغرور ہو کر ست ہو جا ئیں۔بہر حال ان پر الزام کوئی نہیں۔انہوں نے پہلے ایک کتاب شائع کی اور پھر اس کی آمد سے اور بہت سی کتابیں شائع کر دیں۔یہ سلسلہ اگر جاری رہا تو امید ہے کہ تین چار سال میں سلسلہ کی ساری کتابیں چھاپ لیں گے مگر اس سلسلہ میں ابھی بہت گنجائش ہے“ رپورٹ مجلس مشاورت 1952ء صفحات 30-31)