حیات شمس — Page 509
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس پھر فرماتے ہیں: 477 اگر وہ اپنے اس قول کا پاس کر کے کہ میں اس شخص کا کوئی گناہ نہیں دیکھتا مسح کو چھوڑ دیتا تو اس پر کچھ مشکل نہ تھا اور وہ چھوڑنے پر قادر تھا مگر وہ قیصر کی دو ہائی سن کر ڈر گیا۔لیکن یہ آخری پیلاطوس پادریوں کے ہجوم سے نہ ڈرا حالانکہ اس جگہ بھی قیصرہ کی بادشا ہی تھی۔لیکن یہ قیصرہ اُس قیصر سے بدر جہا بہتر تھی اس لیے کسی کے لیے ممکن نہ تھا کہ حاکم پر دباؤ ڈالنے کے لیے اور انصاف چھوڑانے کے لیے قیصرہ سے ڈراوے۔بہر حال پہلے مسیح کی نسبت آخری مسیح پر بہت شور اور منصوبہ اُٹھایا گیا تھا اور میرے مخالف اور ساری قوموں کے سرگروہ جمع ہو گئے تھے۔مگر آخری پیلاطوس نے سچائی سے پیار کیا اور اپنے اس قول کو پورا کر کے دکھلایا کہ جو اس نے مجھے مخاطب کر کے کہا تھا کہ میں تم پر خون کا الزام نہیں لگاتا۔سو اس نے مجھے بہت صفائی اور مردانگی سے بری کیا اور پہلے پیلاطوس نے مسیح کے بچانے کے لیے حیلوں سے کام لیا۔مگر اس پیلاطوس نے جو کچھ عدالت کا تقاضا تھا اس طور سے اس تقاضے کو پورا کیا جس میں بزدلی کا رنگ نہ تھا۔“ کشتی نوح صفحه 54، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 58) ہماری آج کی میٹنگ کے صدر کو اگر چہ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس زندگی میں بھی ریٹائر ہونے سے قبل جزائر انڈیمان کی چیف کمشنری کے معزز عہدہ تک پہنچایا، لیکن جو عزت آپ کے لیے مستقبل میں مقدر ہے اس کا نہ وہ خود اندازہ لگا سکتے ہیں اور نہ کوئی اور شخص۔آپ گورنمنٹ برطانیہ کے تاج میں ایک چمکتا ہو اہیرا ہیں جو آج اگر چہ دنیا کی نظروں سے پوشیدہ ہے لیکن مستقبل میں وہ نہایت روشن ہے اور آپ کا وجود جب تک دنیا قائم ہے عدل و انصاف کی ایک مثال کے طور پر یاد کیا جائے گا۔اب میں ایک اور پیشگوئی کا ذکر کرتا ہوں جو جماعت کی ترقی کے متعلق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اس وقت جبکہ آپ اکیلے تھے، یہ بشارت دی کہ میں تجھے مسلمانوں کی ایک بہت بڑی جماعت دوں گا نیز فرمایا کہ میں تجھے دنیا کے کناروں تک عزت کے ساتھ شہرت دونگا اور تیرا ذکر بلند کروں گا اور تیری محبت دلوں میں ڈالوں گا اور 1891ء میں آپ نے تحریر فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں شہر لنڈن میں ایک منبر پر کھڑا ہوں اور انگریزی زبان میں ایک نہایت مدلل بیان سے اسلام کی صداقت ظاہر کر رہا ہوں۔بعد اس کے میں نے بہت سے پرندے پکڑے جو چھوٹے چھوٹے درختوں پر بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے رنگ سفید تھے اور شاید تیتر