حیات شمس — Page 479
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس در وصاحب : ہاں 463 اس کے بعد ہم ڈرائنگ روم میں بیٹھے اور مولوی شیر علی صاحب اور خاکسار سے گفتگو ہوتی رہی کرنل صاحب اردو اچھی طرح بول لیتے تھے۔میں نے "کشتی نوح“ سے مولوی محمد حسین بٹالوی کی شہادت کا ذکر سناتے ہوئے یہ عبارت پڑھی۔” صرف فرق اس قدر تھا کہ سردار کا ہن کو پیلاطوس کے دربار میں کرسی ملی تھی کیونکہ یہودیوں کے معزز بزرگوں کو گورنمنٹ رومی میں کرسی ملتی تھی اور بعض ان میں سے آنریری مجسٹریٹ بھی تھے۔اس لئے اس سردار کا ہن نے عدالت کے قواعد کے لحاظ سے کرسی پائی اور مسیح ابن مریم ایک مجرم کی طرح ایک عدالت کے سامنے کھڑا تھا۔لیکن میرے مقدمہ میں اس کے برعکس ہوا یعنی یہ کہ برخلاف دشمنوں کی امیدوں کے کپتان ڈگلس نے جو پیلاطوس کی جگہ عدالت کی کرسی پر تھا مجھے کرسی دی۔اور یہ پیلاطوس مسیح ابن مریم کے پیلاطوس کی نسبت زیادہ با اخلاق ثابت ہوا کیونکہ عدالت کے امر میں وہ دلیری اور استقامت سے عدالت کا پابند رہا اور بالائی سفارشوں کی اس نے کچھ بھی پرواہ نہ کی اور قومی اور مذہبی خیال نے بھی اس میں کچھ تغیر پیدانہ کیا اور اس نے عدالت پر پورا قدم مارنے سے ایسا عمدہ نمونہ دکھایا کہ اگر اس کے وجود کو قوم کا فخر اور حکام کیلئے نمونہ سمجھا جائے تو بیجا نہ ہوگا“ کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 55) جب میں نے اس کے بر عکس ہوا“ کے الفاظ پڑھے ، کرنل صاحب کہنے لگے بے شک یسوع مسیح تو ایک معمار تھا یا کسان تھا اس لئے پیلاطوس نے اسے کرسی نہ دی لیکن مرزا صاحب تو ایک معزز اور عالم آدمی تھے۔مولوی شیر علی صاحب نے کہا۔بہر حال حضرت مسیح علیہ السلام خدا کے نبی تو تھے۔کرنل ڈگلس صاحب نے جواب دیا وہ ایسے ہی تھے جیسے ہندوستان میں فقیر ہوتے تھے لیکن مرزا صاحب بڑے سنجیدہ اور عالم تھے۔پھر میں نے حسب ذیل عبارت سنائی۔مگر ہم اس بچی گواہی کو ادا کرتے ہیں کہ اس پیلاطوس نے اس فرض کو پورے طور پر ادا کیا اگر چہ پہلا پیلاطوس جو رومی تھا اس فرض کو اچھے طور پر ادا نہ کر سکا اور اس کی بزدلی نے مسیح کو بڑی بڑی تکالیف کا نشانہ بنایا۔یہ فرق ہماری جماعت میں ہمیشہ تذکرہ کے لائق ہے۔جب تک کہ دنیا قائم ہے اور جیسے جیسے یہ جماعت لاکھوں کروڑوں افراد تک پہنچے گی ویسی ویسی