حیات شمس

by Other Authors

Page 456 of 748

حیات شمس — Page 456

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس جمعیت بفضلہ ہائیڈ پارک کے زائرین کی غیر معمولی توجہ اور جذب کا باعث ہوتی۔لوگ کثرت ہجوم سے مکر می مولوی صاحب کی تقریر متواتر کئی کئی گھنٹے سنتے اور ہمارا یہ اجلاس غیر معمولی کامیابی سے ختم ہوتا۔بفضله الله۔اسی طرح چند ایک اور مقرر کا ذکر کرتے ہوئے نہایت وو اختصار کے ساتھ مقالہ نگار اپنے اس مقالہ کو ان الفاظ پر ختم کرتا ہے۔440 الغرض آزادی کلام ، آزادی ضمیر، آزادی رائے اور تحمل رواداری اور بردباری کا یہ زندہ نشان لندن کا ایک غیر معمولی حصہ ہے جمہوری طریق حکومت میں جو کہ ساری دنیا کو ایک قابل تقلید سبق دیتا ہے۔الفضل قادیان 6 جنوری 1947ء) انگلستان میں خدمات سلسلہ کے بارہ میں حضرت مولوی صاحب کا ریویو 1946ء میں جب حضرت مولانا شمس صاحب لندن سے واپس قادیان تشریف لائے تو ایڈ میٹر ریویو آف ریلیجنز کی درخواست پر آپ نے اپنے گذشتہ دس سال کی انگلستان کی خدمات پر ایک مفصل مضمون تحریر کیا جس کے بعض حصے پیش ہیں۔یورپ میں تبلیغ اسلام کی ابتداء حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنی زندگی میں لکھوکھا پمفلٹ یورپ اور امریکہ میں بھجوائے اور ان ملکوں میں آپ کے دعوئی کے متعلق مضامین بھی شائع ہوئے۔ایک دفعہ آپ کی زندگی میں ایک انگریز مسٹر ڈکنسن نامی قادیان آئے اور آپ سے گفتگو کی۔جب وہ واپس جانے لگے تو حضور اقدس بھی انہیں رخصت کرنے کیلئے ساتھ چل پڑے اور مترجم کے ذریعہ اپنے دعوئی اور اسلام کے متعلق گفتگو فرماتے گئے یہاں تک کہ نہر کا پل آگیا جو قادیان سے تقریبا اڑھائی تین میل کے فاصلہ پر ہے۔وہ انگریز آپ کی اس ہمت اور صدق و استقامت اور جوش تبلیغ کو دیکھ کر بہت متاثر ہوا۔یہ صرف ایک ہی موقعہ نہ تھا بلکہ اور بھی کئی مواقع پر حضور کی خدمت میں یورپین لوگ آتے رہے اور آپ اسلام کی پاکیزہ تعلیم ان کے سامنے پیش کرتے رہے۔ملکہ وکٹوریہ کو براہ راست ایک خط کے ذریعہ دعوتِ اسلام دینے کے علاوہ آپ نے یورپ اور