حیات شمس — Page 336
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 320 مضبوط ہوگا اتنا ہی وہ خدا تعالیٰ کا زیادہ قرب حاصل کرنے کی کوشش کریگا۔مثلاً عطا محمد صاحب پٹواری جن کے کوئی ایک بچہ نہیں ہوتا تھا ان کے بچہ ہو جانا اور سعد اللہ لدھیانوی جس کا بچہ تھا ، پر اس کا منقطع النسل ہو جانا اس امر کی دلیل ہے کہ حقیقی خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے۔(۵) مسزا کسیلریت ایک یونانی کی بیوی آئیں ان سے گفتگو ہوئی اور سلسلہ کی کتب مطالعہ کیلئے دی گئیں۔(۶) ایک دوست نے ہستی باری تعالیٰ کے متعلق سوالات دریافت کئے جن کے جوابات دیئے گئے۔(۷) میں اور حضرت مولوی شیر علی صاحب وکٹوریہ ٹیشن سے مسجد کو آرہے تھے راستہ میں کرنل ڈگلس بھی اسی ڈبہ میں آگئے جس میں ہم بیٹھے تھے۔خوشی سے ملے۔انہوں نے فرمایا کہ احمدیت کے عقائد اور خیالات تو بہت اچھے ہیں اور لوگ مان بھی چکے ہیں لیکن صرف شخص کو نہیں مانتے۔(۸) مسٹر آر تھر جان ایک دفعہ اکیلے آئے پھر دوسری دفعہ اپنے ساتھ اپنی بیوی اور تین اور اپنے دوست لائے۔انہیں مسجد دکھائی گئی۔The Incamation اور ضرورت مذہب وغیرہ امور پر گفتگو ہوئی۔احمدیت یعنی حقیقی اسلام مطالعہ کیلئے دی گئی۔اسی طرح بعض اور لوگوں سے بھی ملاقات ہوئی اور خط و کتابت کی۔بعض مصری اور ہندوستانی دوست مسجد دیکھنے کیلئے تشریف لائے جن میں سے ایک الدکتور محمد صادق تھے جو قاہرہ کے ہسپتال قصر العین میں ڈاکٹر ہیں۔ان سے عربی میں ایک گھنٹہ کے قریب گفتگو ہوئی اور سلسلہ کا بھی ذکر آیا۔ڈاکٹر فضل الرحمن صاحب جمونی اپنی تکمیل تعلیم کے بعد واپس ہندوستان جاتے ہوئے مسجد دیکھنے کیلئے تشریف لائے۔اسی طرح شیخ عبدالحمید صاحب ایم۔اے، بی ٹی امرتسری اور ڈاکٹر حسن دین صاحب بہاولپوری اور بعض اور طالب علم بھی تشریف لائے اور مسجد دیکھی۔یوم التبلیغ کے روز میں اور شیخ احمد اللہ صاحب تبلیغ کیلئے نکلے پہلے ایسٹ اینڈ گئے۔وہاں سے مصری کلب میں اور پھر ایک مکان پر گئے جہاں بعض غیر احمدی دوست رہتے ہیں۔وہاں ایک دوست نے مذہبی سوالات کئے جن کے تفصیل سے جوابات دیئے گئے اور قرآن مجید کی بعض آیات کی تفسیر کی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بھی ذکر آیا اور حضرت شیر علی صاحب اور عزیزم سید ممتاز صاحب اکٹھے تبلیغ کیلئے گئے۔بعض غیر احمدیوں کو آپ نے تبلیغ کی اسی طرح بعض اور دوستوں نے تبلیغ کی۔ایک انگریز نو مسلم محمد بر املی نے جو پورٹ سمتھ میں رہتے ہیں اشتہارات تقسیم کئے اور عیسائیوں سے گفتگو کی۔۔خاکسار: جلال الدین شمس۔(الفضل قادیان 20 دسمبر 1938ء)