حیات شمس — Page xxxvii
xxxvi دیباچه بسم الله الرحمن الرحیم محمدہ ونصلی علی رسوله اکریم علی عبده السيح الموعود مکرم منیر الدین صاحب شمس پسر حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس) میں چھوٹی عمر کا بچہ تھا جب سے اپنے والد محترم حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کی شکل یاد ہے۔ہر وقت ایک مسکراہٹ سی چہرہ پر ہوتی۔صاف ستھرے کپڑے شلوار قمیص زیب تن ہیں جن پر کوٹ پہنا ہوا ہے۔چہرہ پر داڑھی ہے جو چہرہ پر خوب جچتی ہے۔سر پر پگڑی ہے جو بھلی معلوم ہوتی ہے۔گول اور سیاہ آنکھیں جو خوب چمکدار ہیں جو اس بات کی غماز ہیں کہ نگاہ دور رس ہے۔دفتری کاموں میں خوب انہماک تھا یہاں تک کہ دفتری اوقات کے بعد جب گھر آتے تو جہاں شدید گرمی کے باعث ایک ہاتھ میں سیاہ چھتری تانے ہوتے تھے وہاں دوسرے ہاتھ میں فائلیں بھی پکڑے ہوتے تھے تا کہ گھر آکر دفتری امور بھی جاری رہیں لیکن طبیعت میں غصہ کی بجائے ایک اطمینان کی سی کیفیت ہوتی تھی اور گھبراہٹ اور افراتفری کی بجائے ہشاش بشاش نظر آتے اور مسکراہٹ چہرہ پر بکھری ہوتی تھی۔ہمارے ابا جان کی خوش قسمتی تھی کہ آپ کو بچپن میں گھر میں نہایت پاکیزہ ماحول میسر آیا۔نہ صرف آپ کے والد محترم حضرت میاں امام الدین صاحب سیکھوائی صحابی تھے بلکہ ان کے دونوں بھائی حضرت میاں جمال الدین صاحب سیکھوائی اور حضرت میاں خیر الدین صاحب سیکھوائی اور آپ کے دادا حضرت میاں محمد صدیق صاحب سیکھوائی اور پھوپھو حضرت امیر بی بی صاحبہ شعرف مائی کا کو بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ میں شامل تھے۔ان کے ذریعہ آپ کو حضور علیہ السلام کے الہامات اور آپ کی صداقت کے اظہار کیلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دکھائے جانے والے نشانات کا بھی علم ہوتا رہتا اور علم ومعرفت سے بھر پور مجلسوں کا بھی تذکرہ رہتا۔اسی طرح الحمد للہ کہ ہم بھی جہاں اپنے گھر میں حضرت ابا جان کے نیک اور پاکیزہ زندگی کے عملی نمونہ سے حصہ پاتے رہے وہاں ہم اپنی عظیم والدہ محترمہ سعیدہ بانو سے آپ کی ہمیشہ خدا تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنے اور اپنے بچوں کو خوشیاں دینے کیلئے قربانیاں کرتے چلے جانے کے باوجود گھر کے نظم ونسق کی نہایت عمدہ طریق پر چلاتے چلے جانے کے ساتھ اپنے بچوں میں عزت نفس پیدا کرنے اور بلند حوصلگی کا عملی رنگ میں مسلسل سبق حاصل کرتے رہے۔اسی طرح ہماری خوش قسمتی تھی کہ ہمارے نانا جان حضرت خواجہ عبید اللہ صاحب ( ریٹائر ڈالیں۔ڈی او) ہمارے ہی ہاں رہتے تھے۔آپ بھی پانچوں وقت