حیات شمس

by Other Authors

Page xxxviii of 748

حیات شمس — Page xxxviii

xxxvii مسجد میں جا کر با جماعت نمازیں ادا کرنے والے، تہجد گزار اور دینی احکامات پر عامل بزرگ تھے۔ہم نے قرآن کریم بچپن ہی میں پڑھنا آپ سے ہی سیکھا تھا۔نہ صرف قرآن کریم بلکہ ہمارے سکول کی تعلیم میں بھی آپ ہمارے راہنما تھے۔ہمارے گھر میں خدا تعالیٰ کے فضل سے روزوں کا خاص اہتمام کیا جاتا تھا۔میں نے کبھی کسی کے خلاف شکایت یا ایک دوسرے کے بارہ میں چغلیاں نہیں سنی تھیں ہاں البتہ خوبیوں کے تذکرے ضرور ہوتے تھے اور اچھی باتوں پر احباب کی تعریف ضرور سنی جاتی تھی۔میں سولہ سال کا تھا کہ ابا جان کی وفات ہوگئی۔میں اس وقت جامعہ کی اولی کلاس میں تھا۔اُس روز نجانے کیوں مغرب سے کچھ پہلے میں بستر پر لیٹ گیا اور قرآن کریم پڑھنا شروع کر دیا۔کچھ دیر بعد ضیاء الاسلام پریس کے خواجہ عبدالرحمن صاحب مرحوم گھبرائے ہوئے ہمارے گھر آئے۔باہر کا دروازہ کھلا تھا۔وہ گھر کے اندر آگئے اور پوچھا کہ مولانا شمس صاحب کہاں ہیں؟ میں نے بڑے اطمینان سے جواب دیا کہ وہ سرگودھا گئے ہوئے ہیں تو انہوں نے روتے ہوئے کہا کہ وہ وفات پاگئے ہیں۔میں نے محسوس کیا کہ میرا دماغ ماؤف ہو گیا ہے لیکن میں قرآن پڑھتارہا اور ہر گز گھبراہٹ محسوس نہیں ہوئی۔اس کے بعد کیا کچھ ہوتارہا یہ ایک لمبی داستان ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہم پر اتنے فضل اور احسانات کئے ہیں کہ ان کا شما ممکن ہی نہیں ہے۔خلفائے وقت سے اتنا پیار ملا ہے جو اپنوں سے بھی ممکن نہیں۔میں نے جب 1972ء میں جامعہ سے شاہد کا امتحان پاس کیا اور مولوی فاضل پنجاب یونیورسٹی سے کیا تو میری تقرری بدوملہی ضلع سیالکوٹ میں ہوئی لیکن چند ماہ بعد ہی مجھے نائب امام مسجد فضل لندن مقرر کر کے انگلستان بھجوا دیا گیا۔میری یہ بہت خوش قسمتی تھی کہ یہاں حضرت ابا جان امام رہ چکے تھے۔چنانچہ اس طرح ان کیلئے بھی بہت دعاؤں کا موقع ملتا رہا۔ہائیڈ پارک کارنر جہاں آپ کی تقاریر ہوتی رہیں اور ایک پادری کے ساتھ مناظرہ بھی ہوتارہا وغیرہ جگہیں دیکھنے کا موقع ملا۔ابا جان کے دور امامت کے بعض احباب سے ملاقات کا موقعہ ملتا رہا جن میں مکرم عبد الوہاب صاحب مرحوم، مکرم عبدالرحیم صاحب آف ماریشس مرحوم، مکرم ناصر احمد صاحب سکرونز مرحوم، ہر دلعزیز مکرم عزیز دین صاحب مرحوم اور مکرم چوہدری انو راحمد کاہلوں صاحب مرحوم وغیرہ سے متعدد مرتبہ ابا جان کی پاکیزہ سیرت کے مختلف پہلوؤں پر سننے کا موقع ملتا رہا۔ان سب کے بیان کے مطابق حضرت ابا جان حقیقت میں ایک فرشتہ سیرت انسان تھے اور ہر ایک کے ہمدرد، مونس و غمخوار تھے اور عالم باعمل تھے۔انگلستان کی جماعت کے ایک دوست چوہدری خورشید احمد صاحب سیال ہیں جن کی ایک ٹانگ کینسر کی