حیات شمس — Page xxix
xxviii تھی۔اس طرح میں نے چھوٹی عمر میں ہی بہت سی کتابیں جن میں براہین احمدیہ بھی شامل ہے، پڑھ لیں۔اپنی عمر کے آخری دو سال میں جب ربوہ سے کسی کام کیلئے باہر جاتے تو مجھے یہ ذمہ داری دی تھی کہ ساری ڈاک کو دیکھ کر اس کی ترتیب کر دوں۔اس وقت آپ ناظر اصلاح وارشاد تھے، اس وقت نظارت ایک ہی شعبہ پر مشتمل تھی ، اب اس کے چار شعبے ہیں] الشرکۃ الاسلامیہ کے مینیجنگ ڈائریکٹر تھے مجلس کار پرداز کے صدر تھے اور اس کے علاوہ بھی کئی کمیٹیوں میں شامل تھے۔مزید یہ کہ بہت سے احباب جماعت ان سے فتاویٰ کیلئے یا رائے کیلئے بھی خط لکھتے تھے۔چنانچہ میں ڈاک دیکھ کر مختلف دفاتر کیلئے ترتیب دے دیتا اور اگر کوئی فوری خط ہوتا تو اس دفتر میں پہنچا دیتا۔اس دوران مجھے مختلف دفاتر کے کام کی کافی سوجھ بوجھ ہو گئی اور کئی لحاظ سے فائدہ مند بات ہوئی کہ جماعتی دفاتر کا نظام کیسے چلتا ہے۔جماعتی ذمہ داریاں والد صاحب کی توجہ دو طرف ہی رہتی تھی ایک تو اپنی جماعتی ذمہ داریوں کی طرف اور دوسرے عبادات کی طرف۔جماعتی کاموں میں چونکہ بہت توجہ اور انہماک سے رجوع کرتے تھے اس لئے ہمیشہ صحیح موقعہ پر صحیح قدم اٹھانے کا موقع ملتا تھا۔اس ضمن میں خاکسار دو واقعات کا ذکر کرنا چاہتا ہے۔جب خلافت جو بلی کیلئے سید نا حضرت مصلح موعودؓ کو تجاویز پیش کی گئیں تو حضور کو یہ پسند نہیں تھا کہ آپ کی ذات کیلئے کوئی جشن منایا جائے اور انہوں نے اس بات کا اظہار بھی فرمایا۔ہمارے والد صاحب اس وقت لندن میں خدمات بجالا رہے تھے۔انہوں نے حضور کی خدمت میں خط لکھا کہ اگر چہ یہ خلافت ثانیہ کی پچیسویں سالگرہ بھی ہے لیکن ساتھ ہی 1939ء میں جماعت احمدیہ کو قائم ہوئے پچاس برس ہوئے ہیں کیونکہ جماعت 1889ء میں قائم ہوئی تھی۔چنانچہ سید نا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اس بات کا ذکر اپنی پہلی تقریر میں کیا جو آپ نے خلافت جو بلی کے موقعہ پر فرمائی اور آپ نے فرمایا کہ میں اس تقریب کے حق میں نہیں تھا لیکن مجھے مولوی جلال الدین صاحب شمس نے لکھا کہ جماعت کی سالگرہ کی تقریب بھی ہے تو پھر میں راضی ہو گیا۔ہجرت قادیان دوسرا واقعہ جو قابل ذکر ہے وہ قادیان سے ہجرت کا واقعہ ہے۔اکثر احباب جماعت قادیان سے