حیات شمس

by Other Authors

Page 235 of 748

حیات شمس — Page 235

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 219 کے پاس ہی جارہا ہوں۔ایک روز شام کے وقت خطیب جامع مسجد اور رئیس الجمعیۃ اسلامیہ اور ایک شخص جس نے اپنا سرمنہ لپیٹا ہوا تھا، پہنچے۔در حقیقت مراد الاصفہانی تھا جسے شرق الاردن کا ایک امیر بتایا گیا۔اس کے آنے کی غرض یہ تھی کہ وہ اپنے سامنے میری باتیں سنیں اور دیکھے کہ آیا وہ مقابلہ کر سکتا ہے یا نہیں۔رئیس الجمعیۃ الاسلامیہ نے مجھ سے بہت سے سوالات کئے جن کے میں نے جوابات دیئے اور آخر کار متعجب ہو کر کہنے لگا آپ نے تمام علوم اور عربی زبان کہاں سیکھی ہے۔میں نے کہا قادیان سے۔پھر مدرسہ احمد یہ قادیان کے نظام کے متعلق بتایا۔دو گھنٹہ تک مباحثہ کر کے واپس چلے گئے۔راستے میں جو احمدی ان کے ساتھ تھے ان سے مراد اصفہانی کے متعلق کہا گیا کہ یہ عیسائی ہے۔اس نے خوب انا جیل کا مطالعہ کیا ہوا ہے جن سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا مگر دوسرے دن حیفا کے احمدیوں نے خبر بھیجی کہ آپ کے پاس کل مراد الاصفہانی اور فلاں شخص آئے تھے۔اس کے بعد اس کیلئے کہا بیر میں آنا سخت مشکل ہو گیا کیونکہ اس نے اپنے آپ کو شرق الاردن کا ایک رئیس اور عیسائی کہا تھا نیز اس نے یہ بھی سمجھ لیا کہ مباحثہ کرنا کوئی خالہ جی کا گھر نہیں ہے اس لئے وہ بھی واپس قدس چلا گیا۔اس کے بعد محمد شنقیطی مغربی کو جو بہت مدت تک مکہ مکرمہ میں درس دیتے رہے اور مصر میں بھی اکا بر علماء میں شمار کئے جاتے ہیں مصر سے بلوایا اور پھر 24 اگست کو اسے نیز عوام اور علماء کا ایک بڑا گروہ جس میں قاضی حیفا بھی تھا لے کر ایک بجے کے قریب کہا بیر پہنچ گئے جن کے بیٹھنے کیلئے گاؤں سے باہر ختر وب کے درختوں کے نیچے چٹائیاں بچھا دی گئیں اور گدیلے وغیرہ بچھا دیئے گئے۔چونکہ ان کے ساتھ بہت سے اوباش لوگ بھی تھے۔اس لئے احمدیان کہا بیر کی رائے تھی کہ ان سے گفتگو نہ کی جائے اور اتفاقاان کے آنے سے ایک گھنٹہ قبل مجھے ناظر صاحب دعوۃ و تبلیغ کی طرف سے میرے برادر مرحوم بشیر احمد کے وفات پا جانے کا تار ملا تھا۔چونکہ میں چند روز کے بعد مصر آجانے والا تھا اس لئے ضروری سمجھا کہ اسی روز ان سے مباحثہ کر لیا جائے تا بعد میں یہ نہ کہہ سکیں کہ دیکھو ہم ان سے مباحثہ کے لئے گئے مگر وہ گھر سے ہی نہ نکلے۔اللہ تعالیٰ سے دعا کر کے میدان مباحثہ میں چلے گئے اور فریقین آمنے سامنے بیٹھ گئے۔اس وقت میرے اور ان کے درمیان جو گفتگو ہوئی خلاصتہ بطور مکالمہ درج ذیل کرتا ہوں : شمس آپ کے یہاں تشریف لانے کی کیا غرض ہے؟