حیات شمس — Page 213
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 197 خدا تعالیٰ کے محبوب بن جاتے ہیں۔آپ کوئی ایسا حکم قرآن مجید سے پیش کریں جو ناقص ہو اور محتاج تکمیل ہو۔بہائی صاحب خاموش ہو گئے اور کہا آپ بہائیت کی کتابیں پڑھیں جو عنایت اللہ بہائی کی دکان سے ملیں گی۔میں نے ایک دوست کو اپنے ساتھ لیا اور عنایت اللہ بہائی کی دکان تلاش کر کے وہاں پہنچے۔انہوں نے دیکھتے ہی کہا۔آپ قادیانی ہیں۔میں نے کہا احمدی ہوں۔اسے بھی میرے آنے کی خبر دی گئی تھی۔میں نے کہا ہم بہائیت کے متعلق بعض کتب خریدنا چاہتے ہیں۔کہنے لگا میرے پاس تو کوئی کتاب نہیں ہے۔دیکھئے میں کتابوں کی تو دکان نہیں کرتا۔عجیب بات ہے کہ کتا بیں بھی کسی مخفی جگہ میں رکھی ہوئی ہیں۔بھلا یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ سب بہائی اس کا پتہ دیتے ہیں اور وہ انکار کر دیتا ہے۔پھر کہنے لگا مصر اور ہندوستان میں بہت کتابیں ہیں۔میں نے کہا۔یہاں مرکز بہائیت سے کتب نہیں ملتیں تو باہر سے کیسے ملیں گی۔کہاں ہے آپ کی شریعت اولی "بیان" آپ ہی کوشش فرما دیں۔جس قدر خرچ ہوگا میں ادا کروں گا اور پھر ایک نسخہ " کتاب الاقدس شریعت ثانیہ کا بھی آپ تلاش کر کے مجھے دیوہیں۔اس کی قیمت جو فرما ئیں گے دے دوں گا۔کہنے لگا میرے پاس تو میرے پڑھنے کیلئے ہیں زائد نہیں ہے۔میں نے کہا آپ نے جہاں سے منگوائی ہیں مجھے بھی منگوا دیں ممنون ہوں گا۔غرضیکہ بہائیت بالکل مر چکی ہے اور جو تعداد تین سو کے قریب بتائی گئی ہے اس کا یہ مطلب نہ سمجھیں کہ شام اور فلسطین کے مسلمانوں سے یہ لوگ بہائیت میں داخل ہوئے ہیں۔نہیں بلکہ یہ لوگ عجم سے یہاں آبسے ہیں۔پس بہائیت کا آج کل یہاں کوئی اثر نہیں اور نہ ہی اس کی کوئی اہمیت ہے۔ہو بھی کیسے جب کہ ان کے خدا زمین میں مدفون پڑے ہیں۔لَا يَمْلِكُونَ مَوتاً وَلَا حَيَاةً وَلَا نُشُوراً (الفرقان 4) سید نا حضرت مسیح موعود کا ذکر عرب وادیوں میں ( الفضل قادیان یکم مئی 1928ء) ( حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس) يدعون لك ابدال الشام و عبادالله من العرب سید نا حضرت خلیفہ اسی ثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے سورہ جن کا درس دیتے ہوئے فرمایا۔ان کا ذکر خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم سے جو کیا تو یہ ایسی ہی بات ہے جیسے حضرت