حیات شمس

by Other Authors

Page xxiv of 748

حیات شمس — Page xxiv

xxiii پیش لفظ مکرم فلاح الدین صاحب شمس پسر حضرت مولانا شمس صاحب - مقیم امریکہ) ایک عرصہ سے خواہش تھی اور بہت سے دوست احباب نے بھی اس طرف توجہ مبذول کروائی کہ حضرت والد ماجد کی سیرت پر کچھ لکھا جائے۔نہ صرف لکھا جائے بلکہ آپ کے حالات زندگی پر کتاب بھی شائع کروائی جائے۔اگرچہ 68-1967ء میں یہ کام شروع بھی ہوا تاہم بوجوہ معرض التواء میں رہا۔اب خدا تعالیٰ نے دوبارہ تو فیق عطا فرمائی اور برادرم احمد طاہر مرزا صاحب نے اس سلسلہ میں خاصی عرق ریزی کی محنت و محبت سے قلمی معاونت فرمائی اور کتاب ” ‘ تالیف کی جو بفضلہ تعالیٰ مکمل ہوکر قارئین کے ہاتھوں میں ہے۔خاکسار والد ماجد کے بارہ میں کچھ تاثرات پیش کرنے کی توفیق پا رہا ہے۔اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔کتاب لکھنے کی خواہش والد صاحب رضی اللہ عنہ کی خواہش تھی کہ وہ اپنی زندگی کے حالات پر کتاب لکھیں لیکن وقت نہ ہونے کے باعث وہ یہ کام نہ کر سکے۔اپنی وفات سے چند ماہ قبل جبکہ میں ابھی امریکہ نہیں آیا تھا انہوں نے اس بات کا اظہار کیا۔فرمایا کہ دو کتابیں لکھنا چاہتا ہوں لیکن وقت کی مجبوری کی وجہ سے نہیں کر سکا۔ایک تو اپنی زندگی اور اپنے خاندان کے حالات لکھنا چاہتا ہوں اور دوسری ایک کتاب لکھنا چاہتا ہوں جس میں انجیل کی صحیح تفسیر بیان کی جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ عیسائیوں کو علم نہیں کہ انجیل میں کیسی باتیں بیان ہوئی ہیں۔اگر چہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتابوں میں کئی باتوں کی تفسیر اور وضاحت فرمائی ہے لیکن اگر ایک تفسیر کی کتاب لکھی جائے تو بہت مفید ثابت ہوسکتی ہے اور انجیل کی تعلیم اور پیشگوئیاں جو حضرت عیسی علیہ السلام نے بیان فرمائی ہیں وہ سب کے سامنے آسکتی ہیں۔اس ضمن میں یاد آیا کہ ہمارے محترم حافظ مختار احمد صاحب شاہجہانپوری رضی اللہ عنہ ؟ عنہ ہمیشہ ہمارے والد صاحب کو ”علامہ شمس کے نام سے پکارتے تھے۔میں نے حضرت حافظ صاحب کی محفل میں بہت وقت گزارا ہے۔مجھے کبھی بھی یاد نہیں کہ انہوں نے ابا جان کیلئے ”علامہ شمس“ کے علاوہ کوئی نام بھی استعمال کیا ہو۔حضرت حافظ صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ اگر ”علامہ شمس“ کو انتظامیہ کے اتنے کام نہ