حیات شمس

by Other Authors

Page 163 of 748

حیات شمس — Page 163

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 163 ہو اور بت پرستی کرتا ہوا ، تناسخ اور روح و مادہ کو قدیم سمجھتا ہوا اور مسیحی اور مسئلہ کفارہ کو مانتا ہوا بہائی ہو، تو پھر اللہ کی شریعت کس کے لئے ہے۔کہنے لگا کوئی نئی شریعت نہیں ہے۔میں نے کہا میں نے خود ”کتاب اقدس کا اول سے آخر تک مطالعہ کیا ہے پھر میں نے اس کے چند احکامات سنائے۔آخر اس سے جب کوئی جواب نہ بن آیا تو کہنے لگا اصل میں میں نے کتب دینیہ کا مطالعہ نہیں کیا۔میں نے اس سے پوچھا کہ کیا آپ پہلے مسلمان تھے ؟ اگر مسلمان تھے تو کونسی خوبی بہائیت میں دیکھی جو اسلام میں نہیں پائی جاتی۔کہنے لگا میں پیدائشی بہائی ہوں۔میر ادادا اور میرا باپ بہائی تھے۔میں نے خود کتب کا مطالعہ نہیں کیا۔( الحمد للہ میں بھی پیدائشی احمدی ہوں میرا دادا بھی۔احمدی ہونے کی وجہ سے احمدی نہیں بلکہ علی وجہ البصیرت احمدی ہوں ) پھر کہنے لگا۔ہمیں ہندوستان سے خبریں ملتی ہیں کہ احمدیوں میں کثرت سے بہائی ہیں۔میں نے کہا کوئی کذاب آپ کو ایسی خبریں لکھتا ہوگا۔احمدیت حقیقی اسلام ہے احمدیوں میں الحمد للہ کوئی بہائی نہیں۔اگر کوئی بہائی منافقانہ طریق پر احمد یوں میں مل جائے جیسا کہ یہود کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَإِذَا جَاءُ وَكُمْ قَالُوا آمَنَّا وَقَدْ دَخَلُوا بِالْكُفْرِ وَهُمْ قَدْ خَرَجُوا بِهِ (المائده : 62) اور پھر انہیں ان کی شرارتوں پر جماعت سے خارج کر دیا جائے تو یہ کہا جائے گا کہ احمدی بہائی ہو گیا۔بہائیوں کو اب تک اپنے عقائد کے اظہار کرنے کی جرات نہیں پڑتی۔ہم نے باب کی کتاب بیان کے متعلق بار بار بہائیوں سے دریافت کیا مگر کوئی بہائی اپنے مقدس بانی کی کتاب دکھانے کیلئے الفضل قادیان 28 ستمبر 1926ء) تیار نہیں ہوتا۔۔۔سلسلہ احمدیہ میں داخل ہونے والا پہلا دمشقی خاندان ( حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس ) جو باتیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر لکھی ہیں پوری ہو کر رہیں گی۔زمین و آسمان ٹل سکتے ہیں پر اس کی باتیں نہیں ملیں گی مگر ہر ایک امر کیلئے وقت معین ہے جسے انسان نہیں جانتا۔انہی خبروں میں سے علاقہ شام میں احمدیت کی اشاعت کی خبر ہے جو اپنے وقت پر پوری قوت کے ساتھ چمکے گی جس کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے فضل سے پڑگئی ہے۔چنانچہ پہلا خاندان جو دمشق میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی غلامی میں داخل ہو اوہ مکرمی برادرم محمد اسماعیل صاحب حقی دمشقی