حیات شمس

by Other Authors

Page 160 of 748

حیات شمس — Page 160

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 160 اور یہی بات سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے فرمائی کہ شام میں ہمارا مقابلہ ہوگا اور سخت ہوگا مگر انشاء اللہ کا میابی بھی بہت بڑی ہوگی۔مگر ابھی تک بوجہ حالات حاضرہ کے کما حقہ تبلیغ کا موقعہ نہیں ملا کہ ہر ایک فرد کو پورے طور پر تبلیغ پہنچائی جاسکے۔یہ بات امن کی حالت میں میسر ہوسکتی ہے۔مارشل لاء جاری ہونے سے پہلے جو ٹریکٹ چھپوائے گئے تھے وہ ابھی تک تقسیم کئے جارہے ہیں اور جو کتابیں مکرمی سید زین العابدین صاحب نے بڑی کوشش اور محنت کر کے چھپوا ئیں تقسیم کی ہیں اور جس قدر ممکن ہوسکتا ہے لوگوں سے مل کر تبلیغ کی جاتی ہے خطوط کے ذریعہ دمشق کے علاوہ دوسری جگہوں میں تبلیغ کر رہا ہوں۔اس کا اثر یہ ہوا ہے کہ حمص میں ایک بڑے عالم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعوت کو قبول کرنے کا اقرار کیا ہے۔انہوں نے دو دفعہ کتابیں اور ٹریکٹ بھی طلب کئے جو روانہ کئے گئے ہیں۔انہوں نے دوسرے احباب کو پڑھنے کیلئے دیئے۔انہوں نے لکھا ہے کہ ہم پوشیدہ طور پر اس دعوت کو پھیلا رہے ہیں اور جو کوئی اعتراض کرتا ہے اس کو جواب دیتے ہیں۔اسی طرح ناصرہ میں السید احمد فائق الساعاتی سے خط و کتابت جاری تھی وہ ایک صالح نوجوان ہیں۔وہ دمشق آئے بیعت کر گئے۔پھر ناصرہ گئے۔وہاں سے چار اشخاص کے جن میں سے دوتا جر ہیں خطوط بیعت انہوں نے روانہ کئے ہیں اور لکھا ہے کہ باقی اشخاص خواہش مند ہیں کہ آپ یہاں آئیں اور مفصل مسائل کے متعلق سمجھا ئیں اور خاص دمشق میں اللہ تعالیٰ نے دو عورتوں کو جماعت میں داخل ہونے کی تو فیق عطا فرمائی ہے۔احباب سے سب کی استقامت کیلئے دعا کی درخواست ہے۔الفضل قادیان 3 / 6اگست 1926ء) حضرت مولا نا شمس صاحب بیان کرتے ہیں : ایک ہفتہ سے شہر میں کچھ امن کی حالت پیدا ہو رہی تھی۔بعض لوگوں کا خیال تھا کہ شاید کوئی صلح کی صورت نکل آئی ہو کہ اچانک پرسوں عصر کے وقت چند ثوار باب الجابیہ سے شہر میں داخل ہوئے اور وسط شہر میں آکر ان سپاہیوں سے جنگ شروع کر دی جو استحکامات پر متعین تھے۔طق طق ہونا شروع ہو گیا۔دکان دار دکانیں بند کر کے گھروں کو بھاگ گئے۔نتیجہ یہ ہوا کہ ایک ضابط فرنساوی اور ان کے تین چار سپاہی قتل ہوئے اور ایک شخص ثوار سے بھی مارا گیا۔اس اثناء میں بعض رؤساء شہر سے بھی اجتماع کا موقعہ ملا اور انہیں پیغام حق پہنچایا گیا۔ایک شخص کو وفات مسیح کے دلائل کے مقابلہ میں جواب بن نہ پڑا تو کہنے لگے یہ کوئی اہم مسئلہ نہیں ہے۔اگر کوئی