حیات شمس — Page 114
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 114 کتنا وقت ہوگا کچھ نہ بتایا۔28 نومبر کی رات کو بتایا کہ مناظرہ کیلئے کل وقت 115 منٹ ہونگے جس میں سے احمدیوں کیلئے 45 منٹ اور ان کیلئے 60 منٹ ہوں گے۔احمدیوں نے مطالبہ کیا کہ انصاف کیا جائے کیا ایسا مناظرہ بھی کسی نے دیکھا سنا ہے؟ مگر جواب ملا کہ ہم نے جو فیصلہ کیا درست ہے اگر یہ فیصلہ منظور ہے تو ٹھیک ورنہ تمہاری مرضی۔پھر احمد یوں نے اسی وقت ایک اشتہار چھپوایا جس کا عنوان تھا ” غیر احمدی علماء کا مباحثہ سے فرار اور اس میں ساری حقیقت بیان کر دی۔اس وقت ہمارا خاص آدمی جہلم گیا اور رات گیارہ بجے وہ اشتہار طبع کروا کر لے آیا۔یہ اشتہارات 29-30 نومبر کی درمیانی شب دو تین بجے مختلف مقامات پر چسپاں کئے گئے۔اس اشتہار نے غیر احمدیوں کے دلوں پر ایسی کاری ضرب لگائی کہ 30 نومبر کی صبح غیر احمدیوں کا سیکرٹری مع چند اور ممبران اشتہارات کو چھلتا چھلاتا پھرتا تھا اور جو اشتہارا کھڑ نہ سکتا تھا اس پر گوبر وغیرہ ملتا تھا۔30 نومبر کی صبح کو جب غیر احمدیوں کا جلسہ شروع ہوا تو مولوی کرم دین ساکن بھیں اٹھا کہ جب تک میں میدان جلسہ میں کھڑا ہوں احمدیوں کو جرات نہیں کہ مناظرہ کیلئے باہر نکلیں۔میں نے مرزا صاحب سے مقابلہ کیا، مرزا صاحب مقدمہ کی پیروی کے وقت جب میرے سامنے کھڑے ہوتے تو بیہوش ہو کر گر پڑتے۔وہ ابھی یہ باتیں کہہ ہی رہا تھا کہ ہم اچانک بلائے ناگہانی کی طرح میدان میں آکھڑے ہوئے۔ہم نے سب انسپکٹر پولیس کھاریاں سے استدعا کی کہ وہ بھی جلسہ میں تشریف لاویں تا جلسہ میں امن قائم رہے۔آخر موصوف کی کوشش سے تسلیم کیا گیا کہ فریقین کو مساوی مساوی وقت دیا جائے۔دونوں مضامین (حیات مسیح علیہ السلام ، صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام) کیلئے دو دو گھنٹے وقت مقرر ہوا اور مناظرین کو پندرہ پندرہ منٹ تقریروں کیلئے دیئے گئے۔پہلا مبحث وفات مسیح علیہ السلام تھا۔غیر احمدیوں کی طرف سے مولوی محمد حسین کولو تارڑ وی بحیثیت مدعی حیات مسیح کھڑے ہوئے اور آیات بَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيهِ ، وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ اور وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ للسَّاعَةِ (النساء: 159 160 ، الزخرف :62) کو رفع جسمانی اور حیات مسیح کے بطور نص بیان کیا۔ہماری طرف سے مولوی جلال الدین شمس مولوی فاضل مناظر تھے۔شمس صاحب نے مولوی محمد حسین کے دلائل کو ایسا تو ڑا کہ غیر مسلم پبلک بھی محسوس کرتی تھی۔لفظ رفع کے معانی لغت سے بیان کر دینے کے بعد مولوی محمد حسین سے مطالبہ کیا کہ اس آیت کے سوا ( کیونکہ یہ متنازعہ فیہ ہے ) کوئی ایسی مثال پیش کرو جس میں لفظ رفع ہو اور اللہ فاعل ہو اور کوئی ذی روح مفعول ہو اور اس کے معنی رفع جسمانی کے ہوں مگر آخر تک وہ اس کو پورا نہ کر سکا۔غیر احدی مولوی کے دلائل تو ڑنے کے بعد شس صاحب نے پندرہ کے قریب