حیات شمس

by Other Authors

Page 60 of 748

حیات شمس — Page 60

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس وصال حضرت مولانا امام الدین صاحب سیکھوائی 60 60 ضرت میاں امام الدین صاحب کے وصال پر روز نامہ الفضل قادیان نے لکھا: یہ خبر نہایت رنج کے ساتھ سنی جائے گی کہ مولوی امام الدین سیکھوانی والد مولوی جلال الدین صاحب شمس مبلغ انگلستان جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نہایت مخلص اور اولین صحابہ میں سے تھے چند روز بیمار رہنے کے بعد آج پانچ بجے بعمر قریباً 80 سال انتقال کر گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْن۔بعد نماز عشاء حضرت مولوی شیر علی صاحب نے ایک بہت بڑے مجمع سمیت نماز جنازہ پڑھائی اور مرحوم کو مقبرہ بہشتی کے قطعہ خاص صحابہ میں دفن کیا گیا۔احباب بلندی درجات اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کریں۔۔۔۔۔66 الفضل قادیان 10 مئی 1941 ، صفحہ 2) حضرت حسین بی بی صاحبہ والدہ حضرت مولانا شمس صاحب بھا گودال میں ایک مختصری احمدی جماعت تھی اور وہاں سکھوں کا زور تھا اور کسی زمانہ میں لیکھر ام بھی وہاں جایا کرتا تھا۔وہاں کے سکھ بھی اس سے عقیدت رکھتے تھے۔اس خاندان کی ایک شاخ احمد نگر متصل ربوہ میں رہتی ہے جن میں حکیم محمد عبد اللہ صاحب آف بھا گووال معروف ہیں۔حضرت میاں امام الدین صاحب سیکھوانی کی شادی بھاگووال ضلع گورداسپور کے ایک خاندان میں ہوئی۔حضرت شمس صاحب کی والدہ کا نام حضرت حسین بی بی تھا جو حضرت کریم بخش صاحب کی بیٹی تھیں۔[ حضرت ماسٹر کریم بخش صاحب بھی حضور کے ابتدائی صحابہ میں شامل ہیں ]۔ریکارڈ بہشتی مقبرہ کے مطابق آپ 1870ء میں پیدا ہوئیں اور 1891ء میں حضرت مسیح موعود کی بیعت کی تھی۔آپ کا وصیت نمبر 434 ہے اور چھٹے حصہ کی وصیت کرنے کی سعادت حاصل کی۔آپ بہشتی مقبرہ ربوہ کے قطعہ صحابہ میں مدفون ہیں۔حضرت مولانا شمس صاحب کے بڑے بھائی حضرت بشیر احمد صاحب کی پیدائش سے قبل حضرت حسین بی بی اور حضرت میاں امام الدین صاحب کے ہاں کئی بیٹے پیدا ہوئے مگر وہ بچپن میں ہی فوت جاتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں اس کا ذکر کیا گیا تو حضور نے ایک انگریزی فولاد استعمال کرنے کی ہدایت فرمائی جس کا نام Ferrite Ammonia Citrate ہے۔چنانچہ حضور کے ارشاد