حیات شمس — Page 638
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 606 آپ نے ابتدائی تعلیم لوئر پرائمری تک اپنے گاؤں سیکھواں ہی میں حاصل کی۔لیکن آپ کی اصلی اور مستقل تعلیم کا آغاز 1910ء میں ہو ا جب آپ باقاعدہ قادیان آ کر مدرسہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔مدرسہ احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے مبارک ہاتھوں سے 1906ء میں جاری کرنے کی تجویز فرمائی تھی اور جس وقت آپ داخل ہوئے اس وقت تیسری جماعت کھل رہی تھی۔آپ ایک نہایت ہو نہار محنتی اور سمجھدار طالب علم تھے۔آپ ہر سال پاس ہوتے چلے گئے تا آنکہ 1919ء میں آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کی سند حاصل کی اور پھر تین سال کی خصوصی تعلیم و تربیت کے بعد آپ نے مبلغین کلاس کا امتحان پاس کیا۔ایک طرف جہاں آپ کو حضرت مسیح پاک کی نظروں کی برکت اور اپنے نہایت درجہ تخلص باپ کی تربیت حاصل ہوئی وہاں دورانِ تعلیم میں حضرت خلیفتہ امیج الاول رضی اللہ عنہ کا درس قرآن سنا اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ، حضرت مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت قاضی میرحسین صاحب ، حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب ، حضرت حافظ روشن علی صاحب اور حضرت میر محمد الحق صاحب رضی اللہ عنہم جیسے آسمان احمدیت کے ستارے بطور استاد میسر آئے جو اس پاک مٹی پر سونے پر سہا گہ کی طرح کام دے گئے۔آپ نے 1918ء سے اپنے طالب علمی کے زمانہ سے مضامین لکھنے شروع کئے اور مناظروں میں حصہ لینا شروع کر دیا۔چنانچہ 1919ء میں آپ نے مشہور مناظرہ سار چور میں کیا۔جس میں آپ کو نمایاں کامیابی حاصل ہوئی اور ایک سکھ ڈاکٹر کی طرف سے آپ کو انعام ملا۔اس مناظرہ کی کارروائی شائع شدہ ہے۔اس کے علاوہ آپ نے بیسیوں مباحثات اس زمانہ میں شیعوں ، سنیوں اور پادریوں سے کئے۔جن میں مباحثہ بھونگاؤں ، مباحثہ جہلم اور مباحثہ میانی شائع شدہ ہیں۔1923ء میں آپ کو مبلغین کلاس پاس کرنے کے بعد ملکانوں کے فتنہ ارتداد کے دور کرنے کے لئے بھجوایا گیا جہاں آپ نے 11 سال تک جانفشانی سے کام کیا۔1924ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے سفر ولایت میں جب حضرت شیخ یعقوب علی صاحب کا ساتھ جانے کا فیصلہ ہو ا تو آپ کو ملکانہ سے واپس بلا کر ان کی جگہ الحکم کا ایڈیٹر مقرر کیا گیا۔آپ کی محنت علمی مشاغل، زور بیان کو دیکھ کر سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفہ المسح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے آپ کو عرب ممالک میں بطور مبشر احمدیت بھجوانے کا فیصلہ فرمایا۔چنانچہ آپ 1925ء میں بلا دعر بیہ تشریف لے گئے۔جہاں آپ کے ذریعہ دمشق، کہا بیر، حیفا اور مصر میں جماعتیں قائم ہوئیں۔آپ ہی کے ذریعہ