حیات شمس — Page 607
حیات ٹمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 575 میرے ابا جان گھر کے نظم و نسق میں بھی پوری طرح ہاتھ بٹاتے تھے لیکن جماعتی کام بڑی تند ہی سے کرتے۔مجھے یاد ہے کہ ابا جان جب دفتر سے واپس آتے تو بس ہاتھ میں قلم اور کاغذ ہوتے تھے اور لکھتے ہی رہتے تھے۔نہ کھانے کا ہوش نہ پینے کی فکر۔بس اپنے کام میں ہی مشغول رہتے۔بعض دفعہ والدہ صاحبہ بھی کہتیں مگر ہنس کر ٹال دیتے اور فرماتے کہ پھر کام کس طرح ختم ہو گا ؟ نمازوں میں آپ بہت با قاعدہ تھے۔تہجد کی نماز بھی پڑھتے اور دعاؤں میں مشغول رہتے۔خواہ سردی ہوتی یا گرمی لیکن جہاں تک میں نے دیکھا ہے آپ حتی الوسع مسجد میں تشریف لے جاتے اور باجماعت نماز ادا کرتے۔ایک دفعہ عشاء کی نماز کے وقت جب کہ بارش ہورہی تھی اور بادل گھٹا ٹوپ تھے اور گرج رہے تھے، بجلی کڑک رہی تھی ، آپ نماز کیلئے تشریف لے گئے حالانکہ آپ کو دل کی تکلیف ہو جایا کرتی تھی۔اُس دن ملک بشیر احمد صاحب کی ساس کا جنازہ تھا۔آپ نماز کے بعد میت کی تدفین کیلئے بھی تشریف لے گئے اور جب تدفین کے بعد گھر آئے تو ہم حیران رہ گئے کہ آپ ننگے پاؤں واپس تشریف لا رہے ہیں اور جوتا اور چھتری ایک لڑکا پکڑ کر لا رہا ہے چنانچہ آتے ہی لیٹ گئے اور پتہ چلا کہ آپ کو دل کی تکلیف ہو گئی ہے۔پھر آپ نے ” کو رومین وغیرہ پی تو کہیں جا کر طبیعت سنبھلی لیکن صبح دیکھا تو پھر فجر کی نماز میں تشریف لے جارہے ہیں۔والد صاحب سیکھواں کے رہنے والے تھے جہاں تعلیم کی بہت کمی تھی۔گو آپ کے والد صاحب یعنی میرے دادا جان احمدی ہو چکے تھے مگر پھر بھی چونکہ تعلیم کی کمی تھی اس لئے والد صاحب نے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ خود ہی محنت کی اور اس عظیم مقام پر پہنچے کہ آپ کو خالد کے لقب سے نواز اگیا اور جب ابا جان انگلستان سے واپس تشریف لائے تو حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے اس حدیث ” سورج مغرب سے طلوع کرے گا “ کا مصداق آپ کو بھی قرار دیا۔فالحمد للہ علی ذالک۔سیکھواں کی گمنام ہستی جس کو کوئی نہ جانتا تھا، اس گمنام بستی سے ایک ستارہ نکلا جس نے اتنی ترقی کی اور خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کے عشق میں ایسا ڈوبا کہ خدا تعالیٰ نے اُسے سورج بنادیا جس کی کرنوں نے مشرق و مغرب کو منور کیا۔ڈاکٹروں کے مشورہ کے باوجود کہ آپ زیادہ کام نہ کریں ورنہ صحت خراب ہو جائے گی اور بھائی جان جو کہ ڈاکٹر ہیں ، ان کے بار بار توجہ دلانے کے باوجود بھی آپ اسی طرح خدا تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ کے دین کی آبیاری میں مصروف رہے۔اس طرح آپ نے دین کو دنیا پر مقدم رکھا۔جب آپ کو انگلستان بھجوایا گیا تو اس وقت آپ کی نئی نئی شادی ہوئی تھی اور ایک بچہ ابھی بہت چھوٹا تھا