حیات شمس

by Other Authors

Page 606 of 748

حیات شمس — Page 606

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 574 رفتہ رفتہ وہ سارا گاؤں احمدیت کے دامن سے وابستہ ہو گیا۔اس گاؤں کا نام کہا بیر ہے۔یہیں جماعت احمدیہ کی عرب ممالک میں سب سے پہلی مسجد ہے۔والد صاحب نے جتنی مشکلات عرب میں برداشت کیں اس کا اندازہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔والد صاحب پر شام میں قاتلانہ حملہ ہوا اور دشمن رسول و مسیح نے آپ پر پہلے دو وار تاریکی میں کھڑے ہوکر اور اس وقت جب کہ آپ گھر کی سیڑھیوں پر قدم رکھنے ہی والے تھے خنجر کی دھار سے کئے خنجر چونکہ بہت زیادہ تیز تھا اس لئے والد صاحب کو زیادہ علم نہ ہوسکا۔مگر پھر تیسر اوار دشمن نے نوک کی طرف سے کیا تو آپ بالکل نڈھال سے ہو کر گر پڑے خون کی دھار میں آپ کے جسم مبارک سے نکل نکل کر زمین میں جذب ہو رہی تھیں۔دشمن آپ کو اپنی طرف سے مار کر چلا گیا۔اُس وقت سوائے خدا تعالیٰ کے اور کون تھا جو آپ کو بچا لیتا؟ کچھ دیر بعد جب مکان والوں کو علم ہو ا تو آپ کو ہسپتال لے جایا گیا اور حضور کو اُسی وقت تار دیا گیا۔تو حضور نے جواب میں فرمایا کہ پوری توجہ سے علاج کروایا جائے خواہ جتنی بھی رقم لگ جائے۔ڈاکٹر وغیرہ سب نا اُمید ہو چکے تھے اور وہ یہاں تک کہہ اُٹھے کہ اب تو کوئی معجزہ ہی ہوگا کہ یہ بچ جائیں ورنہ ظاہر میں تو بچنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ زخم بہت گہرے تھے۔جب والد صاحب کو کچھ ہوش آیا تو آپ نے منیر اکھنی صاحب سے کہا کہ اگر میں فوت ہو جاؤں تو حضور گوفورا اطلاع دے دینا وہ ضرور کسی دوسرے شخص کو میری جگہ بھجوادیں گے اور اُس کو میرا سامان بھی دے دینا۔“ ذرا غور کریں کہ آپ کو کتنی خوشی تھی کہ آپ خدا تعالیٰ کی راہ میں شہید ہو جائیں اور دوسرے یہ کہ آپ کو کتنا یقین اور بھروسہ تھا کہ احمدیت عرب میں پھیل کر رہے گی اور حضور کوئی نہ کوئی شخص ضرور بھجوائیں گے تا کہ احمدیت کی کرنوں سے جلد از جلد عرب کے گوشے جگمگا اُٹھیں۔غرض یہ کہ آپ صحیح وقف کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے شفا عطا فرمائی اور دوسرے دن لوگ کہتے ہوئے سنے گئے کہ یہ بچ کیسے گیا؟ انہیں کیا معلوم تھا کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں مرنے کو زندگی سمجھتے ہیں اور جو گھروں سے سروں پر کفن باندھ کر آتے ہیں ان پر کبھی بھی موت وارد نہیں کی جاسکتی۔چنانچہ اس واقعہ سے بھی بہت سے اصحاب احمدیت سے متاثر ہوئے اور بعض جماعت میں داخل ہو گئے۔تو دشمن نے جو تد بیر کی تھی اس کا اللہ تعالیٰ نے اچھا اور بہتر نتیجہ پیدا کر دیا۔مَكَرُواوَ مَكَرَ اللهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ ابّا جان کی قربانیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ مولانا غلام باری صاحب سیف فرماتے ہیں میں نے عرب کی جماعت کو سب سے زیادہ محبت شمس صاحب سے کرتے ہوئے محسوس کیا ہے۔