حیات شمس — Page 504
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔“ 472 ( جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد 6 صفحات 291-292) اس پیشگوئی کے بعد عبد اللہ آتھم پر خواب متولی ہو گیا، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جو بد زبانی وہ کیا کرتا تھا اسے اس نے ترک کر دیا اور یہ مدت خاموشی میں گذاری۔اس کی اندرونی حالت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو ان الفاظ میں اطلاع دی۔اطلع الله علی همه و غمه ولن تجد لسنة الله تبديلا۔ولا تعجبوا ولا تحزنوا وانتم الاعلون ان كنتم مؤمنین و بعزتی وجلالی انک انت الاعلى ونمزق الاعـداء كـل مـمـزق و مکر اولئك هو يبور انا نكشف السر عن ساقه يومئذ يفرح المؤمنون - ترجمہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس (آتھم ) کے ھم و غم پر اطلاع پائی اور اس کو مہلت دی جب تک وہ بیبا کی اور سخت گوئی اور تکذیب کی طرف میل کرے اور خدا تعالیٰ کے احسان کو بھلا دے۔( یہ معنے فقرہ مذکور کے تفہیم الہی سے ہیں۔) خدا تعالی کی یہی سنت ہے اور تو ربانی سنتوں میں تغیر و تبدل نہیں پائے گا۔تجب مت کرو اور غمناک مت ہو اور غلبہ تمہیں کو ہے اگر تم ایمان پر قائم رہو۔مجھے میری عزت اور جلال کی قسم ہے کہ تو ہی غالب ہے۔۔۔۔ہم دشمنوں کو پارہ پارہ کر دیں گے یعنی اُن کو ذلت پہنچے گی اور ان کا مکر ہلاک ہو جائے گا۔۔۔۔اور ہم اصل بھید کو اس کی پنڈلیوں میں سے نگا کر کے دکھا دیں گے یعنی حقیقت کو کھول دیں گے اور فتح کے دلائل بینہ ظاہر کریں گے اور اس دن مومن خوش ہوں گے۔(انوار الاسلام صفحہ 2-3 ، روحانی خزائن جلد 9 صفحات 2-3، تذکرہ طبع چہارم 2004 ء صفحات 211-212) ان الہامات کی بناء پر جب عبد اللہ آتھم سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ قسم کھا کر بتائے کہ اس پر اس پیشگوئی کی وجہ سے اسلام کی عظمت ظاہر نہیں ہوئی اور اس نے اپنی پہلی حالت کو تبدیل نہیں کیا ؟ تو اس نے باوجود چار ہزار روپیہ انعام پیش کیے جانے کے حلف اُٹھانے سے انکار کیا اور حق کو چھپایا۔تب سنت الہی کے مطابق وہ چند ماہ کے بعد جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا تھا، مر گیا۔مذکورہ بالا علامات میں یہ صاف طور پر بتایا گیا تھا کہ چند عیسائی جو مباحثہ آتھم سے تعلق رکھنے والے ہیں حضرت مسیح موعود ر کے خلاف کوئی سازش کریں گے لیکن اللہ تعالیٰ اس پوشیدہ مکر کی حقیقت کو ظاہر کر دیگا۔