حیات شمس

by Other Authors

Page 503 of 748

حیات شمس — Page 503

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 471 انہوں نے نہایت خوشی کے ساتھ قبول فرمائی۔میٹنگ کا انتظام احاطہ مسجد کے باغ میں کیا گیا تھا۔کرنل ڈگلس نو مسلم انگریزوں سے مل کر بہت خوش ہوئے۔میٹنگ کی کارروائی تلاوت قرآن مجید سے شروع ہوئی جو ایک انگریز نو مسلم مسٹر بلال نکل نے کی۔اسکے بعد کرنل ڈگلس نے فرمایا کہ میرا احمد یہ جماعت سے یہ تعلق ہے کہ میں نے ایک مقدمہ کا جو بانی جماعت کے خلاف دائر کیا گیا تھا فیصلہ کیا تھا۔ان کے بعد مندرجہ ذیل مضمون جو میں نے مقدس بانی جماعت احمدیہ کے موضوع پر لکھا تھا حاضرین کو پڑھ کر سنایا۔(مضمون کا ابتدائی حصہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آباء و اجداد کی مختصر سوانح اور حضور کے دعوی اسے پہلے کی پاکیزہ زندگی اور آپ کے دعوئی اور اس پر اہل مذاہب کی مخالفت کے ذکر پر مشتمل تھا، میں نے یہاں درج نہیں کیا۔میری غرض اس جگہ اس حصہ کو قارئین کے سامنے پیش کرنا ہے جس کا تعلق زیادہ تر ڈاکٹر کلارک کے مقدمہ سے تھا اور جس کا فیصلہ کرنل ڈگلس نے کیا تھا) سب سے پہلے میں نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض وہی تھی جو پہلے انبیاء کی بعثت کی تھی یعنی آسمانی نشانوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت دینا، اور صراط مستقیم کی طرف لوگوں کی راہنمائی کرنا تا ان کا اپنے خالق سے تعلق مضبوط ہو۔پھر میں نے براہین احمدیہ سے چند پیشگوئیاں ذکر کر کے کہا کہ اس وقت ان پیشگوئیوں کے وقوع کی تفصیل بیان نہیں کروں گا بلکہ صرف ایک پیشگوئی کا تفصیل سے ذکر کرنا چاہتا ہوں جو 1894ء میں اور پھر اس کے بعد 29 جولائی 1897ء کو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام کی تھی اور جس کے پورا ہونے میں آج کی میٹنگ کے صدر کا نہایت گہرا تعلق ہے۔واقعہ یہ ہے کہ 1893ء میں عیسائیوں کے ساتھ ایک مباحثہ قرار پایا جس میں عیسائیوں کی طرف سے منا ظر عبد اللہ آتھم ریٹائر ڈاکٹرا اسٹنٹ کمشنر تھے اور مسلمانوں کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام - مقامِ مباحثہ امرتسر تھا۔یہ مباحثہ پندرہ روز تک جاری رہا۔دورانِ مباحثہ میں اور اس سے پہلے بھی عبد اللہ آتھم اور دوسرے عیسائی آسمانی نشان کا مطالبہ کر چکے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مباحثہ کے آخری دن فرمایا: اُس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنارہا ہے وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لیکر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جاوے